اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے حوالے سے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ نیب کے نئے قانون پر تمام جماعتوں میں اتفاق رائے برقرار ہے تاہم اس کے اطلاق کے حوالے سے فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ جمعہ کو پارلینٹ ہاﺅس میں خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو …
نیب کے نئے قانون پر تمام جماعتوں میں اتفاق رائے برقرار ہے تاہم اس کے اطلاق کے حوالے سے فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، وفاقی وزیر قانون

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے حوالے سے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ نیب کے نئے قانون پر تمام جماعتوں میں اتفاق رائے برقرار ہے تاہم اس کے اطلاق کے حوالے سے فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ جمعہ کو پارلینٹ ہاﺅس میں خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کمیٹی نے نیب کے نئے قانون کا مسودہ زیر غور ہے۔ تمام جماعتوں کا اس قانون کے حوالے سے اتفاق رائے برقرار ہے۔ انہوں نے کہاکہ ”عوامی عہدے رکھنے والے“ اور ”کرپٹ پریکٹس“ کی تعریف طے ہوناابھی باقی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے آج کے اجلاس میں شرکت نہیں کی جس کی وجہ سے ایجنڈے کو مکمل طورپر نہیں نمٹایا جاسکا کیونکہ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے نیب کے نئے قانون میں ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کی بھی تجویز دی ہے۔ ان کی اس تجویز پر کمیٹی کے 4 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس کے لئے وقت کا تعین ہونا بھی باقی ہے۔ نیب کے نئے قانون کا اطلاق جزو وفاق کی حد تک ہو گا پھر پورے ملک میں ہو گا۔








