اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاہے کہ نیشنل سائیبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے عملہ اورسینٹرز کی تعدادمیں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،وٹس ایپ ہیکنگ اورجعلی وفراڈ کالز کے حوالہ سے آگاہی فراہم کی جارہی ہے،فائروال کامقصداظہاررائے کی آزادی کوروکنا نہیں۔ جمعہ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ارم حامدکے سوال پروزیرمملکت نے ایوان کوبتایا کہ این سی سی آئی نیابنایاگیا ادارہ …
نیشنل سائیبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے عملہ اورسینٹرز کی تعدادمیں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ، وزیرمملکت برائے داخلہ کاقومی اسمبلی میں جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاہے کہ نیشنل سائیبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے عملہ اورسینٹرز کی تعدادمیں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،وٹس ایپ ہیکنگ اورجعلی وفراڈ کالز کے حوالہ سے آگاہی فراہم کی جارہی ہے،فائروال کامقصداظہاررائے کی آزادی کوروکنا نہیں۔ جمعہ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ارم حامدکے سوال پروزیرمملکت نے ایوان کوبتایا کہ این سی سی آئی نیابنایاگیا ادارہ ہے،اس ادارے کیلئے تمام وسائل فراہم کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 2025میں ایک لاکھ 50ہزارشکایات آئی تھی اورمتعدد شکایات پر مقدمات چل رہے ہیں، 2025کے کیسز میں ابھی تک کوئی سزانہیں ہوئی ہے۔
نعیمہ کشورخان کے سوال پرانہوں نے کہاکہ سیٹنگ فیچرز کی وجہ سے وٹس ایپ ہیکنگ کی شکایات بڑھ گئی تھی وٹس ایپ نے ان فیچرز میں تبدیلی کی جس کے بعد شکایات میں اب کمی آرہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ،جعلی وفراڈکالز سے آگاہی کیلئے اقدامات ہوتے ہیں تاہم صارفین کوبھی اپنی ذمہ داریوں کامظاہرہ کرتے ہوئے ڈیٹا اورذاتی معلومات نہیں دیناچاہیے۔شہریارآفریدی کے سوال پرانہوں نے کہاکہ توہین کے نام پرایک پورامافیا موجودہے، یہ ایک حساس معاملہ ہے،اس پر اقدامات اٹھائے گئے،بہت سارے لوگ جیلوں سے بھی نکالے گئے ہیں اورانہیں ریلیف بھی دیاگیاہے۔
شازیہ مری کے سوال پروزیرمملکت نے کہاکہ این سی سی آئی میں 523رکنی عملہ ہے،یہ تکینکی نوعیت کاکام ہوتاہے،عملہ اورسٹیشنوں کی تعدادمیں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔اعجازالحق اورعالیہ کامران کے سوال پرانہوں نے کہاکہ یہ درست ہے کہ فراڈسے حاصل ہونے والے پیسے اکاونٹس میں جاتے ہیں، ہم نے اس حوالہ سے سٹیٹ بینک سے بھی رابطہ کیاہے، لوگاپنے اکاونٹس بناتے ہیں اورپھرآگے رینٹ پردیتے ہیں فراڈ کرنے والے لوگ یہی اکاونٹ کرایہ پرحاصل کرتے ہیں، یہ ایک پورا چین ہے جس کے تدارک کیلئے کام ہورہاہے۔مرزااختیاربیگ کے سوال پرانہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان میں موبائل کمپنیوں کوسمز کے اجراء کیلئے بائیومیٹرک کاپابندکیا گیاتھا۔ اب اس میں فیس ریکگنیشن اوردیگرجدیدسیکورٹی فیچرزلانے کیلئے موبائل کمپنیوں کو ہدایات جاری کی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کرایہ پرحاصل کئے جانے والے اکاونٹس کے معاملہ پرسٹیٹ بینک ہدایات جاری کرے گا۔اسامہ میلہ کے سوال پروزیرممکت نے کہاکہ فائروال کامقصداظہاررائے کی آزادی کوروکنا نہیں ہے، یہ ریگولیٹرز کومعاونت فراہم کرنے کیلئے بنائی جاتی ہے، اس کاسائبرکرائم سے کوئی تعلق نہیں ہے،ماضی میں پاکستان میں آپریشن پہلے شروع ہوتے ہیں اورریگولیشن بعد میں بنتے چلے آرہے ہیں، جدیددنیا میں بھی فائروالز رائج ہے، این سی سی آئی پرہم ایوان کوتفصیلی بریفنگ دینے کیلئے تیارہے۔
نعیمہ کشورخان کے سوال پرانہوں نے کہاکہ اشتہارکے بعدجولوگ پہلے سے ڈیلی ویجز اورکنٹریکٹ پرکام کررہے تھے انہیں کوڈل فارمیلٹیز کے بعد تعینات کیاگیاتھا ،کسی کودوبارہ تعینات نہیں کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ این سی سی آئی کے صرف 15سٹیشنز ہیں اورعملہ بھی کم ہے، اگلے سال تک این سی سی آئی کے 64سینٹربنائے جائیں گے، یہ ادارہ ای آفس کے طریقہ کارکے مطابق کام کرے گا اورپوراڈیٹاموجودرہے گا۔








