اقوام متحدہ۔18جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے نسلی امتیاز اور ریاستی جبرو استبداد کے بعد جنوبی افریقا کے پہلے سیاہ فام صدر اور نسلی امتیاز کی مخالف شخصیت نیلسن مینڈیلا کےبین الاقوامی دن پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیلسن مینڈیلا ہمارے دور کی قد آور ترین شخصیت تھے جو آج بھی ہم سب کے لیے اخلاقی معیار ہیں۔ ان خیالات …
نیلسن مینڈیلا ہمارے دور کی قد آور ترین شخصیت تھے جو آج بھی ہم سب کے لیے اخلاقی معیار ہیں،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔18جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے نسلی امتیاز اور ریاستی جبرو استبداد کے بعد جنوبی افریقا کے پہلے سیاہ فام صدر اور نسلی امتیاز کی مخالف شخصیت نیلسن مینڈیلا کےبین الاقوامی دن پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیلسن مینڈیلا ہمارے دور کی قد آور ترین شخصیت تھے جو آج بھی ہم سب کے لیے اخلاقی معیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیلسن مینڈیلا کے حوالے سے عالمی دن کے موقع پراپنے ویڈیو پیغام میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ نیلسن مینڈیلا آزاد اور جمہوری جنوبی افریقا کے حامی اور اس جنگ کے فاتح تھے جنہوں نے نسل پرست حکومت کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے تقریباً تین دہائیاں جیل میں گزاریں۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ نیلسن مینڈیلا بے مثال جرات اور عظیم کارنامے کے حامل رہنما اور مکمل وقار اور انسانیت کا گہرا درد رکھنے والی شخصیت تھے۔ انہوں نے کہا کہ مینڈیلا جنہیں مقامی طور پر مادیبا کے نام سے جانا جاتا ہے، کمیونٹیز کا درد رکھنے اور کئی نسلوں کے سرپرست تھے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ نیلسن مینڈیلا آزادی اور وقار کے راستے پر مضبوط عزم کے حامل ،ہمدردی اور محبت کے جذبے سے سرشار تھے،انہوں نے اپنی پوری زندگی اس بات کے لیے وقف کر دی کہ ہر کوئی بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے کی صلاحیت اور ذمہ داری رکھتا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دنیا آج جنگ کی لپیٹ میں ہے جہاں ہنگامی حالات ، نسل پرستی، امتیازی سلوک، غربت ، عدم مساوات اور آب و ہوا کی تبدیلی سے تباہی کا خطرہ ہے ،ان حالات میں نیلسن مینڈیلا کے وژن پر گامزن ہو کرامیدکی کرن روشن کی جا سکتی ہے، عملی اقدامات ان کی میراث کا احترام کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیلسن مینڈیلا کی مثال پر عمل کرتے ہوئےہمیں دنیا کو سب کے لیے زیادہ انصاف پسند، ہمدرد، خوشحال اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ نیلسن مینڈیلا 1994 میں جنوبی افریقا کے پہلے جمہوری اور سیاہ فام صدر بنے اور 1999 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کی حکومت نے نسل پر ستی سے نمٹنے اور اسے ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے قبل 1952 میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے خلاف مہم چلانے پر انہیں کئی بار گرفتار کیا گیا ،1962 میں ریاست کا تختہ الٹنے کی سازش میں عمر قید ہوئی اور 27 سال قیدِ تنہائی کاٹی ۔
عالمی دباؤ اور ملک میں شور ش کے خدشے کے پیش نظر اس وقت کے صدر نے انھیں 1990 میں رہا کردیا۔ نیلسن مینڈیلا کی امن و مساوات کی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام،سخاروف ایوارڈ ،یو ایس پریزیڈنٹ میڈل آف فریڈم سمیت کئی اعزازات سے نوازاگیا۔ نیلسن مینڈیلا 5 دسمبر 2013 کو انتقال کر گئے۔








