وزارتِ داخلہ کے تحت خود مختار ایمرجنسی ادارے کا قیام وقت کا اہم تقاضا، دارالحکومت کے مسائل پر مستقل قابو پایا جا سکتا ہے، ماہرین کی تجویز

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو آتشزدگی، شدید بارشوں، مون سون کی صورتحال اور دیگر ناگہانی آفات سے مستقل طور پر محفوظ بنانے کے لیے روایتی اقدامات سے ہٹ کر وزارتِ داخلہ کے تحت ایک مکمل خود مختار اور سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی ادارہ قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

خرم شہزاد

اسلام آباد۔19جولائی (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو آتشزدگی، شدید بارشوں، مون سون کی صورتحال اور دیگر ناگہانی آفات سے مستقل طور پر محفوظ بنانے کے لیے روایتی اقدامات سے ہٹ کر وزارتِ داخلہ کے تحت ایک مکمل خود مختار اور سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی ادارہ قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ حالیہ فرضی مشق کے دوران عملے کے بہترین رسپانس ٹائم کے بعد انتظامی اور فائر فائٹنگ ماہرین نے زور دیا ہے کہ اسلام آباد کی ایمرجنسی سروسز کو کسی ذیلی محکمے یا عارضی ونگ کے طور پر چلانے کے بجائے اسے پولیس، ایف سی، ایف آئی اے اور سول ڈیفنس کی طرح وزارتِ داخلہ کا ایک مستقل فلیگ شپ ادارہ بنایا جائے، جس کے بعد ہی دارالحکومت کے ایمرجنسی نظام کو دیگر صوبوں کے لیے ایک ماڈل بنایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس نئے خود مختار ادارے کو "کیپٹل ایمرجنسی سروسز ایکٹ” کے ذریعے مستقل قانونی تحفظ دینا ہوگا، جس کے تحت سب سے پہلے محکمے میں خالی پڑی 300 اسامیوں پر نوجوان اور متحرک عملے کی فوری بھرتی ناگزیر ہے۔ اس نوجوان فورس کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے اکیڈمی سے پیشہ ورانہ تربیت دلوانے کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت میں اپنی نوعیت کی پہلی "کیپٹل ایمرجنسی سروسز اکیڈمی” قائم کی جائے تاکہ عملے کو جدید ترین ریفریشر کورسز کروائے جا سکیں۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں لائیو ٹریکنگ اور فوری مواصلات کے لیے مکمل طور پرایک الگ اور خود مختار ڈیجیٹل کنٹرول روم قائم کیا جائے جو کسی دوسرے ادارے پر انحصار نہ کرے۔

اس جدید کنٹرول روم کو لائیو جیو میپنگ سے لیس ہونا چاہیے تاکہ کال موصول ہوتے ہی سیکنڈوں میں قریبی ریسکیو عملہ کو روانہ کیا جا سکے اور اس کی مانیٹرنگ براہِ راست وزارتِ داخلہ کے کمانڈ سینٹر سے منسلک ہو۔ماہرین نے دارالحکومت کے لیے جدید ترین فائر ٹینڈرز اور لائف سپورٹ آلات سے لیس سمارٹ ایمبولینسز کی فراہمی کو بھی وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجویز پیش کی گئی ہے کہ اسلام آباد کے گنجان آباد اور ٹریفک کے رش والے علاقوں کے لیے "موٹر بائیک ایمبولینس سروس” کا آغاز کیا جائے جس سے ابتدائی طبی امداد کا رسپانس ٹائم کو مزید کم ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز قائم مقام ڈی سی صاحبزادہ یوسف کی جانب سے کی گئی فرضی کال پر کیپٹل ایمرجنسی سروس نے محض 8 منٹ میں موقع پر پہنچ کر اپنی مستعدی ثابت کی تھی، جس پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کو سروس کی اپ گریڈیشن کے لیے 7 روز میں پلان پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ کی اس سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے اس نظام کو محض عارضی اپ گریڈیشن تک محدود رکھنے کے بجائے وزارتِ داخلہ کے تحت ایک مستقل فورس کی شکل دینا ہی شہر کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔