وزارتِ پٹرولیم ڈویژن کا توانائی کے تحفظ، ملکی وسائل کے فروغ اور انڈسٹری کے مقامی بنانے کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے مسابقتی آف شور بولی راؤنڈ کے نتائج کا اعلان

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق توانائی کے تحفظ، ملکی وسائل کے فروغ اور انڈسٹری کے مقامی بنانے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے وزارتِ پٹرولیم ڈویژن نے مسابقتی آف شور بولی راؤنڈ کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ بولی کا عمل رواں سال جنوری میں 40 آف شور بلاکس میں پٹرولیم ایکسپلوریشن لائسنسز دینے کے لئے 18سال کے وقفہ کے بعد …

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق توانائی کے تحفظ، ملکی وسائل کے فروغ اور انڈسٹری کے مقامی بنانے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے وزارتِ پٹرولیم ڈویژن نے مسابقتی آف شور بولی راؤنڈ کے نتائج کا اعلان کر دیا۔

بولی کا عمل رواں سال جنوری میں 40 آف شور بلاکس میں پٹرولیم ایکسپلوریشن لائسنسز دینے کے لئے 18سال کے وقفہ کے بعد شروع کیا گیا۔وزارتِ پٹرولیم ڈویژن نے عمل کے آغاز سے قبل ماڈل پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹ تیار کیا تاکہ شفافیت، مسابقت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے، اسی کے ساتھ آف شور پٹرولیم رولز کو ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرنے کے لئے جاری کیا گیا جس سے پاکستان سمندری حدود میں معدنی وسائل کی تلاش کے لئے راہ ہموار ہوئی۔

امریکن کمپنی ڈی گولئیر اینڈ میک ناٹن کی جانب سے کئے گئے تازہ تحقیقی مطالعے نے پاکستان کے آف شور بیسنز میں ہائیڈروکاربن وسائل کی نمایاں صلاحیت کی نشاندہی کی گئی، اس مثبت جائزے کی بنیاد پر حکومت نے انڈس اور مکران بیسنز کے مختلف جغرافیائی علاقوں میں تلاش کے لئے آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کا آغاز کیا۔گزشتہ روز جمعہ 31 اکتوبر کو بولیوں کو شفاف طریقے سے بِڈ اوپننگ کمیٹی کے اجلاس میں کھولا گیا جس کی صدارت ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشنز نے کی جبکہ اس موقع پر صوبہ سندھ اور بلوچستان کے نمائندے بھی موجود تھے۔

بولی کے عمل میں حوصلہ افزا ردعمل سامنے آیا جو پاکستان کے اپ سٹریم سیکٹر میں سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر 23 آف شور بلاکس کے لئے بولیاں موصول ہوئیں جو تقریباً 53,510 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہیں۔کامیاب کمپنیوں میں پاکستان کی نمایاں قومی کمپنیاں او جی ڈی سی ایل ، پی پی ایل، ماری انرجیز اور پرائم انرجی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی اور نجی شعبے کی اہم کمپنیاں جیسے ترکیش پٹرولیم، یونائیٹڈ انرجی، اورینٹ پٹرولیم اور فاطمہ پٹرولیم نے مشترکہ منصوبوں کی صورت میں شمولیت اختیار کی ہے جو پاکستان کے آف شور وسائل میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

ابتدائی تین سالہ مدت (فیز I) کے دوران کمپنیوں کی جانب سے 4,427 ورک یونٹس کے تحت تقریباً 80 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ کمپنیوں نے ارضیاتی خطرات کو بتدریج کم کرنے کے لئے اپنے پروگرامز پیش کئے، تلاش کی کھدائی کی صورت میں سرمایہ۔ تلاش کی نوبت آئی تو سرمایہ کاری 750 ملین سے ایک ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔فیز I میں کمپنیاں تفصیلی جیو فزیکل اور جیو لوجیکل مطالعات کریں گی، جن میں زلزلے سے متعلق ڈیٹا کا حصول، پراسیسنگ اور تشریح شامل ہوگی تاکہ پاکستان کے آف شور بیسنز میں ہائیڈروکاربن کے امکانات کو بہتر طور پر متعین کیا جا سکے۔

اس کے بعد فیز II کے تحت دریافت کنوؤں کی ڈرلنگ کی جائے گی۔پاکستان کی جانب سے بیک وقت انڈس اور مکران بیسنز میں تلاشاتی سرگرمیاں شروع کرنے کی حکمتِ عملی کامیاب ثابت ہوئی ہے جس کا اظہار بولی کے نتائج سے واضح ہے۔ جی این جی مطالعات اور ڈرلنگ کی منصوبہ بندی مکمل ہونے کے بعد وزارت بین الاقوامی آئل کمپنیوں کو اگلے مرحلے کی تلاشاتی سرگرمیوں میں شرکت کی دعوت دے گی جن میں سے کئی بڑی کمپنیوں نے حکومت اور مقامی اداروں سے رابطے بھی شروع کر دئیے ہیں۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حال ہی میں ترکی کی سرکاری کمپنی ٹی پی اے او (TPAO) نے آف شور بلاک C میں 25 فیصد شیئرز اور آپریٹر شپ حاصل کی ہے۔

مزید خبریں