وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،تمام ٹوبیکو کمپنیوں اورڈیلرز کےلئے ایک کروڑ بیس لاکھ کلوگرام اضافی تمباکو مختص،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کےلئے ہائی سپیڈ ڈیزل پر منافع کی شرح کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی بھی منظوری،پالیسی کے اثرات کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لیا جائےگا اسلام آباد ۔ 06 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا …
وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،تمام ٹوبیکو کمپنیوں اورڈیلرز کےلئے ایک کروڑ بیس لاکھ کلوگرام اضافی تمباکو مختص،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کےلئے ہائی سپیڈ ڈیزل پر منافع کی شرح کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی بھی منظوری،پالیسی کے اثرات کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لیا جائےگا
اسلام آباد ۔ 06 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی نے تمام ٹوبیکو کمپنیوں اورڈیلرز کےلئے ایک کروڑ بیس لاکھ کلوگرام اضافی تمباکو مختص کرنے کی منظوری دی ہے۔ کمیٹی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کےلئے ہائی سپیڈ ڈیزل پر منافع کی شرح کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس پالیسی کے اثرات کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لیا جائےگا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اوگرا ایک ایسا نظام وضع کرے گی جس کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کمرشل، سٹاک پوزیشن، ڈیلرز کے انونٹری سسٹم اورفیول مارکر سسٹم کو مانیٹرکیا جا سکے گا۔ کمیٹی نے جامشورو میں 1320 میگاواٹ کے کوئلے سے چلنے والے توانائی کے دو منصوبوں کےلئے حکومت پاکستان کی طرف سے 39 ہزار ملین روپے کی ساورن گارنٹی جاری کرنے کی بھی عبوری منظوری دی۔ کمیٹی نے بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں پر دی جانے والی سبسڈی کی مدت میں اس سال 31 دسمبرتک اس شرط پر توسیع کی منظوری دی کہ ان کے پچھلے بل ادا چکے ہوں۔ اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کی بچت کےلئے زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے۔ اجلاس نے پانی کے ضیاع کو روکنے کےلئے ڈرپ ایری گیشن جیسے آبپاشی کے طریقے اپنانے پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے بنکوں کے ذریعے مالی لین دین پر 0.4 فیصد کی کم کی گئی شرح کو اس سال دسمبر تک توسیع دینے کی منظوری دی۔ برآمدات میں اضافے کےلئے کمیٹی نے ایکسپورٹ پیکج مراعات کا پچاس فیصد جنوری سے جون 2017ءکے عرصے پر لاگو کرنے کی بھی منظوری دی۔ پیکج کا باقی ماندہ پچاس فیصد برآمد کنندگان کو اس شرط پر مہیا کیا جائے گا کہ اگر وہ گذشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں دس فیصد اضافہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اجلاس میں غیر روایتی منڈیوں تک برآمدات پر اضافی دوفیصد ڈرابیک دینے کی منظوری دی گئی۔ کامرس ڈویژن اورایف بی آر نے برآمدی بل میں کمی کےلئے کئی تجاویز پیش کیں۔








