قومی اداروں کے درمیان کسی قسم کا ٹکراﺅ موجود نہیں‘ سازشی نظریات پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی ملک میں اس قسم کی کوئی گنجائش موجود ہے‘اداروں کے درمیان ٹکراﺅ کا تاثر صرف اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ہی نظر آتا ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہیتھرو ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو لندن ۔ 29 اکتوبر (اے پی پی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قومی …
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہیتھرو ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
قومی اداروں کے درمیان کسی قسم کا ٹکراﺅ موجود نہیں‘ سازشی نظریات پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی ملک میں اس قسم کی کوئی گنجائش موجود ہے‘اداروں کے درمیان ٹکراﺅ کا تاثر صرف اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ہی نظر آتا ہے
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہیتھرو ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو
لندن ۔ 29 اکتوبر (اے پی پی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ قومی اداروں کے درمیان کسی قسم کا ٹکراﺅ موجود نہیں ہے‘ سازشی نظریات پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی ملک میں اس قسم کی کوئی گنجائش موجود ہے۔اتوار کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اداروں کے درمیان ٹکراﺅ کا تاثر صرف اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ہی نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور فوجی قیادت امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن سے اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں ساتھ بیٹھے تھے اور ملک کے تمام ادارے قومی ترقی میں مجموعی طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ان کا نجی دورہ ہے اور اس پر قومی خزانہ سے کوئی پیسہ بھی خرچ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیر کے روز رات کو پاکستان واپس پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی آئین میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس قبل از وقت عام انتخابات کی کوئی تجویز نہیں آئی اور حکومت اپنی آئینی مدت پورے کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احمد نورانی پر حملے کا حکومت نے ایکشن لے لیا ہے اور اس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی بن چکی ہے اور ایسے حملے ناقابل قبول ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں کوئی اختلاف نہیں ہے‘ پارٹی نے ملکی ترقی کیلئے کام کیا ہے اور کرتی رہے گی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے، پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوگئی ہے‘ امید ہے کہ آئندہ بھی مزید غیرملکی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی۔








