وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر پیغام

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج عالمی برادری اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ منا رہی ہے، آج سے 75 سال قبل بانی رکن ممالک نے مل کر آنے والی نسلوں کو جنگ کی عفریت سے بچانے کے لئے قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام وضع کیا۔ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں نوآبادیاتی …

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج عالمی برادری اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ منا رہی ہے، آج سے 75 سال قبل بانی رکن ممالک نے مل کر آنے والی نسلوں کو جنگ کی عفریت سے بچانے کے لئے قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام وضع کیا۔ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں نوآبادیاتی نظام کی مخالفت اور ریاستوں کی آزادی کی حمایت میں سب سے آگے رہتے ہوئے پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لئے عالمگیر اقدار کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان غیر ملکی تسلط میں رہنے والے تمام لوگوں کے لئے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ پاکستان نے عالمی امن اور سلامتی برقرار رکھنے میں دنیا بھر میں یو این امن مشنز میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس تاریخی موقع پر میں پاکستان سمیت تمام دنیا سے امن دستوں میں شرکت کرنے والے خواتین و حضرات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں جنگ زدہ علاقوں میں خدمات سر انجام دی ہیں اور کبھی بھی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے قربانیوں سے دریغ نہیں کیا۔ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ اس بات کی بھی یاد دلاتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہونے کے باوجود گزشتہ سات دہائیوں سے حل طلب ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام اب بھی اقوام متحدہ کے ان وعدوں کے منتظر ہیں جس کے تحت عالمی ادارہ نے ان کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ بات انتہائی باعث تشویش ہے کہ 5 اگست 2019 بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد مقبوضہ وادی کی صورتحال مزید بگڑ چکی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر 445 دنوں سے فوجی محاصرے میں ہے اور کشمیری عوام کو کالے قوانین کے ذریعے ہر قسم کی آزادیوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری بالخصوص سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی اخلاقی، قانونی، سیاسی اور سفارتی اتھارٹی کو بروئے کار لاتے ہوئے جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوویڈ 19 وبا کے دور میں اقوام متحدہ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، ہمیں الٹرا نیشنلسٹ، نسل پرست اور اسلامو فوبیا جیسے رجحانات کا سامنا ہے اور تجارتی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور وبا کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی، اقتصادی و سماجی ترقی اور پائیدار ترقیاتی اہداف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کی حمایت کے لئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی تنازعات پر امن طور پر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔