وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا کوئی صوبہ ہو یا اس کا کوئی حصہ' کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے سے احساس محرومی دور ہوگا' تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے سابق فاٹا کی نشستوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ خوش آئند ہے' اس سے سابق فاٹا کے عوام کو یہ احساس …

اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا کوئی صوبہ ہو یا اس کا کوئی حصہ’ کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے سے احساس محرومی دور ہوگا’ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے سابق فاٹا کی نشستوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ خوش آئند ہے’ اس سے سابق فاٹا کے عوام کو یہ احساس ہوگا کہ ان کے مسائل حل کئے جارہے ہیں’ قومی مالیاتی کمیشن میں فاٹا کو 3 فیصد اضافی حصہ دینے پر ہر صورت عملدرآمد کیا جائے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے از سرنو تعین کے لئے دستور (ترمیمی) بل 2019ء پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ فاٹا کے حوالے سے اس اہم آئینی ترمیم کی پورا ایوان حمایت کر رہا ہے’ اس سے قبائلی علاقے کے لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے’ وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں جس طرح تباہی ہوئی ہے اور ان سے جس طرح کے مسائل سامنے آئے ہیں قوم چاہتی ہے کہ یہ مسائل حل ہوں اور ان لوگوں کی آواز سنی جائے۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے سابق فاٹا کی نشستوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ تمام صوبوں سے یہ کہنا چاہیں گے کہ قومی مالیاتی کمیشن میں فاٹا کو 3 فیصد اضافی حصہ دینے پر ہر صورت عملدرآمد کیا جائے۔ مجھے معلوم ہے کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے صوبوں کو بعض خدشات موجود ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فاٹا میں جو تباہی ہوئی ہے اس تباہی کا ازالہ خیبرپختونخوا کا صوبہ اپنے فنڈ سے نہیں کر سکتا۔ اس میں باقی صوبوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہاں پر بنیادی ڈھانچے اور دیگر مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کئے جاسکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشرقی پاکستان کا سانحہ ایک بڑا واقعہ ہے جس کی بنیادی وجہ احساس محرومی تھا۔ یہ احساس محرومی اس لئے تھا کیونکہ مشرقی پاکستان کو جو نمائندگی ملنی چاہیے تھی وہ انہیں نہ ملی۔ مشرقی پاکستان کے سانحہ سے ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور وہ سبق یہ ہے کہ ملک کے کسی بھی علاقے کے لوگوں کو یہ محسوس کرنے کی نوبت نہیں لانی چاہیے کہ وہ یہ سمجھیں کہ پاکستان انہیں قبول نہیں کر رہا یا ان کی آواز نہیں سنی جارہی ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہوتا ہے اور ملک دشمن قوتیں اسی کی بنیاد پر ملک کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ کوشش کرنا ہوگی کہ کم ترقی یافتہ علاقوں کے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ وزیراعظم نے مشرقی اور مغربی جرمنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد کے بعد مشرقی جرمنی کا حصہ پسماندہ رہ گیا تھا ایسے میں مغربی جرمنی نے قربانی دے کر اپنے مشرقی حصے کو ترقی یافتہ بنا دیا۔ اسی جذبے کے تحت ہمیں اپنے مسائل حل کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج خوشی کا دن ہے’ سابق فاٹا کے عوام کو یہ احساس ہوگا کہ پاکستان کو ان کا احساس ہے اور ان کے مسائل حل کئے جارہے ہیں۔

Leave a Reply