اسلام آباد ۔ 9 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان 17 فروری کو 2 روزہ بین الاقوامی افغان مہاجرین کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ جس میں مختلف ممالک کے وزراءاور سینئر حکام شرکت کریں گے۔حکومت پاکستان اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے تعاون سے بین الاقوامی کانفرنس ”پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی کے 40 سال ،یکجہتی کیلئے ایک نئی شراکت …
وزیراعظم عمران خان 17 فروری کو 2 روزہ بین الاقوامی افغان مہاجرین کانفرنس کا افتتاح کریں گے
اسلام آباد ۔ 9 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان 17 فروری کو 2 روزہ بین الاقوامی افغان مہاجرین کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ جس میں مختلف ممالک کے وزراءاور سینئر حکام شرکت کریں گے۔حکومت پاکستان اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے تعاون سے بین الاقوامی کانفرنس ”پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی کے 40 سال ،یکجہتی کیلئے ایک نئی شراکت داری“ کا انعقاد کر رہی ہے جو 17 سے 18 فروری کو ہوگی۔ دفتر خارجہ کی طرف سے اتوار کو جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرینڈی، وزراءاور تقریباً 20 ممالک سے سینئر حکام جو پوری دنیا اور پاکستان میں افغان مہاجرین کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ، کثیر الجہت ترقیاتی بینکوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبہ سے اعلیٰ سطحی حکام کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ کانفرنس اس اہم موڑ پر منعقد ہونے جارہی ہے جب افغانستان میں پائیدار امن کیلئے کوششوں پر پیشرفت ہو رہی ہے ۔کانفرنس میں پاکستان کی طرف سے نرمی ، فراخدلی اور میزبانی کی مثالی کوششوں کو اجاگر کرنے کا بھی موقع ملے گا جو پاکستان نے دنیا کی سب سے بڑی مہاجرین آبادی کی میزبانی کیلئے کی ہیں۔ کانفرنس کے دوران افغان مہاجرین کے ارتقاءکی چالیس سالہ طویل صورتحال ; ماضی کے تجربات کی عکاسی، چیلنجز کی نشاندہی اور افغان مہاجرین کی رضاکارانہ، باعزت اور پائیدار وطن واپسی کے حل پر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اس کانفرنس سے بین الاقوامی کوششوں کو تقویت ملے گی جیسا کہ افغان مہاجرین پر ازسر نو توجہ مرکوز کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی معاہدہ برائے مہاجرین و عالمی پناہ گزین فورم پر اتفاق کیا گیا ہے ۔دفتر خارجہ کی طرف سے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کانفرنس مہاجرین پر مثبت بیانیہ تشکیل دینے میں مدد گار ثابت ہوگی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ان پر سرحدیں بند کی جارہی ہیںاور لاکھوں افراد کو قوم پرستی اور نظریاتی دکھاوے کیلئے بے وطن کیا جارہا ہے۔









