اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حماد علی منصور نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی پیو سکیم کے تحت آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کی فراہمی اور سبسڈی کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ صنعت و پیداوار کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا اور ملک …
وزیراعظم کی پیو سکیم کے تحت آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، حماد علی منصور

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حماد علی منصور نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی پیو سکیم کے تحت آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کی فراہمی اور سبسڈی کی ادائیگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ صنعت و پیداوار کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوام کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنا اور ملک میں ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔
اس سکیم کے تحت الیکٹرک بائیکس پر اسی ہزار روپے تک سبسڈی دی جا رہی ہے جو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے براہ راست درخواست گزاروں کے منظور شدہ بینک اکائونٹس میں منتقل کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینک لیزنگ کے ذریعے الیکٹرک بائیکس اور رکشے آسان اقساط پر بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔حماد علی منصور نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی پیو سکیم کے تحت رواں مالی سال میں تقریباً 9 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی جبکہ حکومت سال 2030ء تک 100 ارب روپے سے زائد سبسڈی دینے کا ہدف رکھتی ہے۔
اس سکیم کے پہلے مرحلے میں 41 ہزار الیکٹرک گاڑیاں حاصل کرنے والے خوش نصیبوں کو سبسڈی دی جا رہی ہے جن میں 40 ہزار الیکٹرک بائیکس اور ایک ہزار الیکٹرک رکشے اور لوڈرز شامل ہیں۔ پہلے مرحلے کے منظور شدہ درخواست گزاروں کو سبسڈی کی رقم منتقلی کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ مزید انہوں نے بتایا کہ اس سکیم کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں 78 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیوں پر سبسڈی دینے کا منصوبہ ہے۔
واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے سبسڈی کے اہل صرف وہ افراد ہوں گے جو پیو سکیم کے تحت ایک منظور شدہ طریقہ کے مطابق الیکٹرک بائیک ، رکشہ یا لوڈر حاصل کریں گے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حماد علی منصور نے کہا ہے کہ اس سکیم کے تحت طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جارہی ہیں اور حکومت کا یہ اقدام ایندھن کے درآمدی بل میں کمی،
ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ اس سکیم کا مقصد ملک میں الیکٹرک وہیکلز کے استعمال کو فروغ دینا، ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا، مقامی صنعت کو تقویت دینا اور پائیدار و ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے نظام کو فروغ دینا ہے۔








