اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیرتوانائی سرداراویس احمدخان لغاری نے کہاہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیٹ میٹرنگ کے حوالہ سے فیصلوں پرعمل درآمدکوروک دیاگیاہے،سولر کی مجموعی 20سے 22ہزار میگاواٹ پیداوارمیں سے تقریبا چھ سے لیکر7ہزار ہزار میگاواٹ جونیٹ میٹرنگ نظام سے منسلک ہے، کی قیمتوں کانظام معقول اورمنصفانہ ہونا چاہئے۔ جمعرات کوقومی اسمبلی میں نیٹ میٹرنگ بارے حالیہ فیصلوں کے حوالہ سے ڈاکٹرشرمیلا فاروقی اوردیگرکے توجہ مبذول نوٹس پروفاقی …
وزیراعظم کی ہدایت پر نیٹ میٹرنگ کے حوالہ سے فیصلوں پرعمل درآمد روک دیاگیا ہے، صرف 6 تا 7ہزار میگاواٹ سولر پاور نیٹ میٹرنگ نظام سے منسلک ہے، وزیر توانائی کاقومی اسمبلی میں توجہ مبذول نوٹس پرجواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیرتوانائی سرداراویس احمدخان لغاری نے کہاہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیٹ میٹرنگ کے حوالہ سے فیصلوں پرعمل درآمدکوروک دیاگیاہے،سولر کی مجموعی 20سے 22ہزار میگاواٹ پیداوارمیں سے تقریبا چھ سے لیکر7ہزار ہزار میگاواٹ جونیٹ میٹرنگ نظام سے منسلک ہے، کی قیمتوں کانظام معقول اورمنصفانہ ہونا چاہئے۔ جمعرات کوقومی اسمبلی میں نیٹ میٹرنگ بارے حالیہ فیصلوں کے حوالہ سے ڈاکٹرشرمیلا فاروقی اوردیگرکے توجہ مبذول نوٹس پروفاقی وزیراویس لغاری نے ایوان کوبتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل اورالیکٹرانک میڈیا پر اس حوالہ سے بحث ہورہی ہے،سینیٹ میں قرارداد بھی پیش ہوئی جس کوایوان نے مسترد اورہمارے موقف کودرست تسلیم کیا، نودس ماہ ماہ پہلے بھی اس معاملہ پربحث ہوئی تھی ،ای سی سی نے اس حوالہ سے تجاویز کی منظوری دی۔
انہوں نے کہاکہ 2017ء میں نیٹ میٹرنگ کانظام متعارف ہوا،اس وقت نیٹ میٹرنگ کی ریگولیشنزمتعارف کرائی گئیں، چارپانچ دفعہ ریگولیٹرزنے اس میں تبدیلیاں کیں یہ آئینی طورپرریگولیٹرز کااختیارہے جبکہ حکومت کواپیل کاحق حاصل ہے،اس پربہت واویلاہواہے اورلوگوں نے تنقید کی کہ یہ عوام کے مفاد میں نہیں ہے،تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اس پراظہارتشویش کیا کہ ان اقدامات کو واپس لیا جائے کیونکہ یہ متبادل توانائی کوفروغ دینے کی پالیسی کے خلاف ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پورے پاکستان میں اس وقت سولر کی مدمیں پیداوارکاحجم 20سے 22ہزار میگاواٹ ہے، اس میں سے تقریبا چھ سے لیکر7ہزار ہزار میگاواٹ نیٹ میٹرنگ نظام سے منسلک ہے،اس میں سے 22سومیگاواٹ صنعتی اورگھریلو صارفین کاحصہ 4ہزار میگاواٹ کے قریب ہے، ان 7ہزار میگاواٹ کے اندر4لاکھ66ہزار صارفین نیٹ میٹرنگ کے مالکان ہے،نیپرا کے حالیہ اقدام سے عام لوگوں اورصارفین پر کوئی فرق نہیں پڑنے والاتھا۔
انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کے ایف سمیت ڈویلپ سیکٹروں میں بیشترسولرپینلز نیٹ میٹرنگ سے منسلک ہیں جبکہ بارہ کہو اوربرماٹائون ایسے علاقوں میں بیشترپینلزنیٹ میٹرنگ میں شامل نہیں،سولر کے کل حجم کا8سے لیکر10فیصدنیٹ میٹرنگ سے منسلک ہے،یہی صورتحال ملک کے دیگرشہروں میں بھی ہے۔ اویس لغاری نے کہاکہ پچھلے سال بجلی کی مجموعی پیداوارمیں 55فیصد کلین انرجی شامل تھی جوعالمی معیار کے قریب ہے،گزشتہ مالی سال میں 0.001فیصدفرنس آئل بھی استعمال نہیں ہواہے،اسی طرح درآمدی ایندھن پرانحصارختم کیا جارہاہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے ریگولیٹرز سے کہاہے کہ فئیرپرائس کاطریقہ کاروضع کیاجائے،اگر سولرپرسرمایہ کاری سے 50فیصدریٹرن مل رہاہے تو منافع میں جائزکمی لانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،جو بجلی پورے گرڈپرخریدی جارہی ہے اس کی اوسط قیمت8.31روپے ہے۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ وزیراعظم کی ہدایت پرنیٹ میٹرنگ کے حوالہ سے فیصلوں کوروکاگیاہے اوریہ بھی فیصلہ ہواکہ ایک ماہ میں ریگولیٹرز کواپیل دائر کی جائے گی،ساڑھے تین کروڑصارفین پرساڑے چارلاکھ لوگوں کابوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ 50فیصد سے منافع کم ہوکر37فیصد ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
نیٹ بلنگ پرصنعتی صارفین کوکوئی اعتراض نہیں ہے،وزیراعظم نے ریویوفائل ہونے کے بعد بوجھ کوباقی شعبوں پرمنتقل کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔شرمیلافاروقی کے سوال پرانہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے پہلے ہی اقدامات پرعمل درآمدکوروک دیا ہے،میں نے کسی بھی مرحلہ پریہ بات نہیں کی ہے کہ پاورسیکٹرمیں مسائل نہیں ہے،ہم نے ایک سال میں 780ارب روپے گردشی قرضہ کم کیاہے،آئی پی پیزکے ساتھ 3400ارب روپے پرمذاکرات کئے،
وزیراعظم کے ایک رشتہ دارکے آئی پی پی سے مذاکرات کرکے 100ارب کمی لائی گئی جس کووزیراعظم نے سراہا بھی ہے،چوری کی روک تھام اورریکوری میں بھی بہتری آئی ہے، صارفین پر197ارب روپے کے بوجھ کوکم کیاگیا، بجلی کے نرخوں میں 18سے لیکر19فیصدتک کی کمی لائی گئی ہے،صنعتی صارفین کیلئے قیمتوں میں 38فیصدتک کمی لائی گئی ہے،گھریلو اورزرعی صارفین کوبھی ریلیف فراہم کیاگیاہے۔








