اسلام آباد ۔ 28 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں کی گئی منی لانڈرنگ کے ذریعے تقریباً 11 بلین ڈالرز پاکستان سے دوسرے ممالک میں منتقل کیے گئے جن میں سے ایک بلین ڈالرز کی ریکوری پراسیس میں ہے۔ اتوار کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کی نجی ٹی وی چینل سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں کی گئی منی لانڈرنگ کے ذریعے تقریباً 11 بلین ڈالرز پاکستان سے دوسرے ممالک میں منتقل کیے گئے جن میں سے ایک بلین ڈالرز کی ریکوری پراسیس میں ہے۔ اتوار کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں جو لوٹی گئی قومی دولت کی ریکوری میں راستے ہموار کریں گی۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے بیرون ملک سے پیسے کی غیر قانونی منتقلی کی اس لیے اب وہ سزا سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے قومی اداروں کو بہتر بنانے کی بجائے انہیں تباہ کر دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) ایک آزاد و خود مختار ادارہ ہے جو آزادانہ طور پر اپنا کام کر رہا ہے اور اس کے معاملات میں کوئی بھی مداخلت نہیں کر رہا۔








