اسلام آباد ۔ 8 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جس جذبے کے تحت شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیرمین بنایا تھا بدقسمتی سے اپوزیشن نے اس کا احترام نہیں کیا اور جب وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں تشریف لائے تو ایک سمجھوتہ ہونے کے باوجود کہ صرف ساہیوال …
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق کی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جس جذبے کے تحت شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیرمین بنایا تھا بدقسمتی سے اپوزیشن نے اس کا احترام نہیں کیا اور جب وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں تشریف لائے تو ایک سمجھوتہ ہونے کے باوجود کہ صرف ساہیوال کے واقعے پر بات کی جائے گی شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کی ذات پر براہ راست حملے کیے اور انہیں سلیکٹڈ وزیراعظم بھی کہا اور پھر (ن) لیگی اراکین نے گو نیازی گو کے نعرے بھی لگائے جو بالکل بھی درست نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیراعظم عمران خان نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں جب شیخ رشید احمد کی نامزدگی کی تو شہباز شریف نے اس کمیٹی سے فوراً ایاز صادق کو ہٹا کر ان کی جگہ سعد رفیق کو نامزد کر دیا لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ جب تک سعد رفیق اپنے کیسز سے کلئیر نہیں ہوتے تب تک سپیکر قومی اسمبلی کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔ معاون خصوسی کا کہنا تھا کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی اداروں کے اکاﺅنٹس کو دیکھ سکتی ہے مگر سیاسی معاملات کو نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں کی قیادت حکومت کے ساتھ بیٹھ کر ایک مکمل ضابطہ اخلاق طے کریں جس کے لیے ہم ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کو تیار ہیں تاکہ ایوان کی کارروائی آگے بڑھ سکے۔








