وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس
وزیراعلی بلوچستان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، بلدیاتی نظام، گورننس، قانون و انصاف، صحت اور ترقیاتی امور سے متعلق فیصلوں کی منظوری
کوئٹہ۔ 12 جون (اے پی پی):وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس جمعہ کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا جس میں عوامی مفاد، انتظامی اصلاحات، بلدیاتی نظام، قانون و انصاف، ترقیاتی منصوبوں، صحت، بین المذاہب ہم آہنگی اور گورننس سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی ۔
اجلاس کے آغاز میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و استحکام کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والےشہدا کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی ۔صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ کابینہ نے بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی آئینی مدت مکمل ہونے پر 8 فروری 2027 کو ان اداروں کی تحلیل کی منظوری دے دی ہے ، کابینہ نے اس امر پر بھی اتفاق کیا ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے قبل نئے اضلاع کی تشکیل، حلقہ بندیوں اور معزز عدلیہ کے مختلف فیصلوں سے متعلق تمام امور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے رکھے جائیں گے تاکہ انتخابات کے انعقاد کے لیےموثر، قابل عمل اور قانونی فریم ورک مرتب کیا جا سکے ۔شاہد رند نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات بھی صوبے کے دیگر اضلاع کے ساتھ ہی منعقد کیے جائیں گے چونکہ کوئٹہ انتظامی طور پر دو اضلاع میں تقسیم ہو چکا ہے اور بعض انتظامی امور کی تکمیل ابھی باقی ہے اس لیے کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات بھی دیگر اضلاع کے ساتھ ایک ہی مرحلے میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے کابینہ نے ضلع بارکھان میں نئی میونسپل کمیٹی ڈیرہ کھیتران کے قیام جبکہ برشور میں نئی میونسپل کمیٹی کے قیام کی منظوری دی ،اسی طرح میونسپل کمیٹی خاران کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ شہری سہولیات کی فراہمی اور مقامی حکومتوں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے ۔شاہد رند کے مطابق صوبائی کابینہ نے بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی جس کا مقصد معلومات تک رسائی کے نظام کو مزید شفاف، موثر اور عوام دوست بنانا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ قانون و انصاف کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر کابینہ نے صوبے کے تمام سیشن ججز، ایڈیشنل سیشن ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کو سی این ایس (کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز) مقدمات کے ٹرائل کے اختیارات دینے کی منظوری دی ہے، جس سے منشیات سے متعلق مقدمات کے جلد اور موثر فیصلوں میں مدد ملے گی ۔سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے فروغ کے لیے کابینہ نے بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ رولز 2026 کی منظوری دی جس سے نجی شعبے کی شراکت داری کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کے موثر نفاذ کی راہ ہموار ہوگی ۔شاہد رند نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے بلوچستان سیکرٹریٹ ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کی منظوری دی ہے جس کے تحت سیکرٹریٹ ملازمین کو گھروں کی تعمیر کے لیے بلا سود قرضوں کی سہولت فراہم کی جائے گی ،بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے کابینہ نے محکمہ اقلیتی امور کا نام تبدیل کرکے انٹر فیتھ ہارمونی ڈیپارٹمنٹ رکھنے کی منظوری دی ،کابینہ نے محکمہ ثقافت کے منسلک ونگز میں گریڈ 1 سے گریڈ 15 تک کے ملازمین کے لیے کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ پالیسی کی بھی منظوری دی، جس سے محکمانہ امور کو مزید منظم اور موثر بنایا جا سکے گا ۔انہوں نے بتایا کہ عوام کو صاف پانی اور حفظان صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے پیش کردہ واش (WASH) پالیسی دستاویزات کی منظوری بھی دی گئی ،صحت کے شعبے میں جاری غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کی فعالیت برقرار رکھنے کے لیے کابینہ نے ان منصوبوں کو صوبائی ٹیکسوں سے استثنی دینے کی منظوری دی ،اسی طرح نرسنگ گریجویٹ ٹرینیز کے لیے 28 ہزار 70 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ نوجوان نرسنگ گریجویٹس کی پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے کابینہ نے حب اور ڈام میں نئے پولیس اسٹیشنز جبکہ ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام کی منظوری دی، جس سے عوام خصوصا خواتین کو بہتر پولیسنگ اور تحفظ کی سہولیات میسر آئیں گی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے آج کے فیصلے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ، قانون کی حکمرانی کے استحکام اور صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے میں معاون ثابت ہوں گے ۔وزیراعلی نے کہا کہ بلدیاتی ادارے جمہوری نظام کی بنیاد ہیں اور حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات مکمل شفافیت، آئینی تقاضوں اور قانونی ضوابط کے مطابق منعقد ہوں ۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام انتظامی اور قانونی معاملات بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو مثر اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام میسر آ سکے ۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے میں شفافیت، احتساب، بین المذاہب ہم آہنگی، امن و امان، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے ۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود، خوشحالی اور ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور صوبے کے ہر علاقے کو ترقی کے ثمرات سے مستفید کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔








