اسلام آباد ۔ 14 دسمبر (اے پی پی) وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کو ایک انتظامی کنٹرول میں لانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں‘ دونوں اداروں کا بورڈ ایک کردیا ہے‘ اس سال پاکستان ٹیلی ویژن کو منافع بخش ادارہ بنائیں گے جبکہ ریڈیو پاکستان کو دو سال میں اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے۔ جمعہ کو …
وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 دسمبر (اے پی پی) وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کو ایک انتظامی کنٹرول میں لانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں‘ دونوں اداروں کا بورڈ ایک کردیا ہے‘ اس سال پاکستان ٹیلی ویژن کو منافع بخش ادارہ بنائیں گے جبکہ ریڈیو پاکستان کو دو سال میں اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت علی محمد خان نے بتایا کہ پی بی سی کے اثاثوں کے ضمن میں فیصلہ پی بی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز کرتا ہے جو مجاز فورم ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ پی بی سی کی عمارت کو پٹہ پر نہیں دیا جارہا ہے۔ ریڈیو پاکستان کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور اسے منافع بخش بنانے کے لئے حکومت اقدامات کرے گی۔ کسی کو بیروزگار نہیں کریں گے تاہم گزشتہ ادوار میں یہاں اپنے من پسند لوگوں کو بھرتی کیا گیا۔ وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ریڈیو پاکستان میوزیم میں جاکر علم ہوگا کہ 1960ءمیں ریڈیو کے ٹرانسمیٹر سمیت دیگر آلات ہم خود بناتے تھے تاہم اب ہر چیز درآمد کی جارہی ہے۔ ریڈیو کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ہر سال پانچ ارب 65 کروڑ حکومت دیتی ہے۔ ریڈیو کی آمدن 20 کروڑ روپے ہے۔ ہم ایک جامع پلان تشکیل دے رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کا بورڈ ایک کردیا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے ایک انتظامی چھتری تلے لائیں گے۔ اس سال پی ٹی وی کو منافع میں لائیں گے اور اگلے دو سالوں میں ریڈیو کو بھی اس صورتحال سے نکال لیں گے۔








