بیجنگ ۔ 27 اپریل (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خا ن نے کہا ہے کہ باہمی رابطوں کو فروغ دے کر معاشی ترقی کے نئے ذرائع دریافت کیے جا سکتے ہیں، جدید دنیا میں چین نے پائیدار معاشی شرح نمو، معاشرے کی فلاح و بہبود اور اربوں لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری کی عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اس کی قیادت کی فہم و فراست اور چینی …
وزیر اعظم عمران خا ن کا بیجنگ میں دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے موقع پرلیڈرز راﺅنڈ ٹیبل مذاکرے کے پہلے سیشن سے خطاب

مزید خبریں
بیجنگ ۔ 27 اپریل (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خا ن نے کہا ہے کہ باہمی رابطوں کو فروغ دے کر معاشی ترقی کے نئے ذرائع دریافت کیے جا سکتے ہیں، جدید دنیا میں چین نے پائیدار معاشی شرح نمو، معاشرے کی فلاح و بہبود اور اربوں لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری کی عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اس کی قیادت کی فہم و فراست اور چینی عوام کی محنت کا نتیجہ ہے، اب چین کے صدر شی جن پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ (بی آر آئی) پروگرام کا تصور پیش کیا ہے جو تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، عوامی رابطوں کے فروغ، مختلف معیشتوں کو ضم کرنے اور مشترکہ خوشحالی کے ویژن پر مشتمل ہے، پاکستان چین کا بنیادی شراکت دار ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) منصوبے کے تحت سڑک، ریل، توانائی اور دیگر شعبوں کے منصوبہ جات شامل ہیں جن کا مقصد مسائل پر قابو پانا اور ترقی کے اہداف کا حصول ہے۔ ہفتے کو بیجنگ میں دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم (بی آر آئی) کے موقع پرلیڈرز راﺅنڈ ٹیبل مذاکرے کے پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سی پیک کے تحت بڑی بڑی شاہراہیں تعمیر کررہے ہیں، ریلوے کے وسائل کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نئے پاور پلانٹس کی تنصیب، گوادر میں جدید ترین سہولیات سے آراستہ بندرگاہ کی تعمیر اور مخصوص اقتصادی زونز قائم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک ایک منصوبہ ہی نہیں بلکہ اس سے ہمارے معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود میں بھی مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ گوادر کی بندرگاہ کو چین کے علاقے ژنگ جیانگ کے ساتھ ملانے سے چین کو اپنی درآمدات کے لئے مغربی چین کے سمندروں کے مقابلے میں ایک مختصر ترین بحری راستہ دستیاب ہو گا جس سے چینی کمپنیوں کے اخراجات میں کمی اور مغربی چین کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی رابطوں میں مزید اضافہ اور بی آر آئی کے فوائد سے زیادہ سے زیادہ استفادے کے لیے ہم مستقبل میں مزید شعبوں پر توجہ دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس سے ڈیجیٹل رابطوں اور معلومات کے بہتر تبادلے سے کاروباری مواقع بڑھیں گے اور قیمتوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ کارکنوں اور مہارتوں کی منتقلی سے اخراجات کو کم کیاجاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی رابطوں کا فروغ سیاحت کے شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہو گا جس سے روزگار کی فراہمی کے مواقع پیدا کرنے اور چھوٹے کارباروں کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ علم اور ایجادات پر مشتمل رابطوں کا فروغ بی آر آئی میں شامل ممالک کاایک اہم مقصد ہے جس کے لیے پاکستان اپنی نوجوان آبادی کی بنیاد پر اہم مقام رکھتا ہے اور ہمارا مستقبل مہارتوں کو مزید نکھارنے اور بین الاقوامی معیشتوں کے ساتھ رابطوں کے فروغ پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ رابطوں کے فروغ کے ان اضافی ذرائع پر عملدرآمد کے لئے میں بی آر آئی کے ممالک کو تجویز پیش کرتا ہوں کہ وہ بی آر آئی ٹور ازم کوریڈور قائم کریں تاکہ ثقافت اور سیاحت کے باہمی رابطوں کو فروغ دیا جاسکے، اسی طرح زیادہ افرادی قوت رکھنے والے ممالک کے کارکنوں کی مہارتوں کو مزید بہتر بنانے کے لئے بھی جامع پروگرامز مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی وسائل کی قلت کے شکار ممالک کی معاونت کی جا سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مختلف زبانوں پر مشتمل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے قیام سے ہم پیداواری اداروں، صارفین اور ہنر مند افرادی قوت کے رابطوں کو بھی فروغ دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اہم خطے میں واقع ہے اور ہماری پوری تاریخ اس بات کی مظہر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ نئے تصورات، ثقافت اور تجارت کو باہم مربوط کیا ہے، رابطوں کا فروغ ہماری تاریخ کا ایک حصہ ہے اور سی پیک کے ذریعے 21 ویں صدی میں اس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب ہمارے خطے کے رابطو ںمیں اضافہ ہو گا اور خوشحالی آئے گی جس سے میں توقع کرتا ہوں کہ ہم حل طلب دیرینہ مسائل کے مشترکہ حل کاآسان راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی قوم کو عوامی جمہوریہ چین کی 70 ویں سالگرہ پر مبارک باد پیش کی اور صدر شی جن پنگ اور عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے بہترین مہمانداری پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔








