وزیر خارجہ خواجہ آصف کا ایوان بالا میں امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے پالیسی بیان

اسلام آباد ۔ 25 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ کو بتا دیا ہے کہ افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکرات سے مسئلہ حل کرنا ہوگا، 21 اگست کو امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد پاکستان کی قوم پارلیمنٹ اور سلامتی کونسل نے واضح موقف اختیار کیا، ہمارا اقتدار امریکہ کے مرہون منت نہیں، ماضی کے حکمران اقتدار کے لئے …

اسلام آباد ۔ 25 اکتوبر (اے پی پی) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکہ کو بتا دیا ہے کہ افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکرات سے مسئلہ حل کرنا ہوگا، 21 اگست کو امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد پاکستان کی قوم پارلیمنٹ اور سلامتی کونسل نے واضح موقف اختیار کیا، ہمارا اقتدار امریکہ کے مرہون منت نہیں، ماضی کے حکمران اقتدار کے لئے امریکہ کے تابع تھے، ہم پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ سویلین اور فوجی قیادت نے مل کر مذاکرات کئے، اپنی خودمختاری اور وقار پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے، امریکہ سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں، ہمیں کسی فوجی اور اقتصادی امداد کی ضرورت نہیں، ملکی مفاد کا آخری دم تک دفاع کریں گے، ماضی کی طرح ایک دھمکی پر ڈھیر ہونے والے نہیں۔ امریکہ کے لئے افغانستان میں امریکہ کی مدد کرنے کو تیار ہیں لیکن کسی کی پراکسی نہیں بنیں گے، افغانستان میں بھارت کا سہولت کنندہ کا کردار ہمیں قبول نہیں، افغان مسئلہ کے حل کے لئے خطے کے ممالک کا کردار بہت اہم ہے، افغانستان میں پچھلے 16 سال کی ناکامیاں امریکہ کے سامنے ہیں۔ بدھ کو ایوان بالا میں امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات 70 سال پرانے ہیں، بڈھ بیر کے واقعہ، نام نہاد افغان جہاد اور جنرل (ر) پرویز مشرف نے ہتھیار ڈالے ان کا نتیجہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے، اگر ہم رضاکارانہ طور پر افغان جنگ میں شامل نہ ہوتے اور پراکسی نہ بنے ہوتے تو آج جس مصیبت میں ہم پھنسے ہوئے ہیں اس سے اﷲ تعالیٰ شاید ہمیں نجات دے دیتا۔ نائن الیون کے بعد ایک اور کیمپرومائز کیا گیا، امریکہ جو فہرستیں دیتا بندے پکڑ کر ان کے حوالے کر دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکمران اشرافیہ ملک کا وقار بیچنے پر تیار ہو جائے تو وہی نتیجہ نکلتا ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں۔

Leave a Reply