اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں‘ بھارتی عام انتخابات کے بعد وہاں جو بھی حکومت برسراقتدار آئے گی ہمیں توقع ہے کہ وہ بھارتی طرز عمل پر نظرثانی کرے گی‘ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے‘ ہمیں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی میں اٹھائے گئے مختلف نکات پر اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں‘ بھارتی عام انتخابات کے بعد وہاں جو بھی حکومت برسراقتدار آئے گی ہمیں توقع ہے کہ وہ بھارتی طرز عمل پر نظرثانی کرے گی‘ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہاں ہے‘ ہمیں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن کے لئے سیاسی حل تلاش کرنا پڑے گا۔ پیر کو قومی اسمبلی میں جمعیت علماءاسلام (ف) کے رکن مولانا واسع کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس کے جواب میں کہا کہ خارجہ پالیسی پر تفصیلی بحث کا خیر مقدم کریں گے۔ یہ حکومت کی رہنمائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اگر ہم امن اور استحکام چاہتے ہیں تو اس کا سیاسی حل تلاش کرنا پڑے گا۔ افغانستان میں دیرپا امن کا قیام ہماری ضرورت ہے۔ اس کے لئے افغانستان میں مختلف فریقین کے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے بات آگے بڑھائی جائے۔ پاکستان اس سارے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ہم افغانستان میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں۔ اس حوالے سے دوحا اور یو اے ای میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ تاجکستان‘ ایران چین سمیت پڑوسی ممالک کی مدد درکار ہوگی۔ ان تمام ممالک کی مدد سے آگے بڑھیں گے۔ اس معاملے پر خوش قسمتی سے کسی پارٹی نے اختلاف رائے ظاہر نہیں کیا۔ کرتارپور کوریڈور کے حوالے سے نکتہ کا جواب دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ مسئلہ 1988ءسے 2018ءتک طویل عرصہ سے زیر غور رہا مگر پیشرفت نہ ہو سکی۔ اب اس مسئلہ پر پیش رفت ہوئی ہے جس کا دنیا بھر میں موجود سکھ کمیونٹی نے خیر مقدم کیا ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے اس اقدام کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اپنے دو وزراءبھی تقریب میں بھیجے۔ پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی الیکشن کے بعد بھارت کی جو بھی حکومت برسراقتدار آئی وہ ہمارے ساتھ اپنے رویے پر نظرثانی کرے گا۔ کیونکہ مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ قبل ازیں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ایک لاکھ کے قریب فوجیوں اور سول افراد نے جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ٹرمپ کے بیان پر حکومت کی طرف سے یہ بیان کہ ہم پرائی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے‘ بڑا خوش آئند اور عوامی توقعات کے مطابق ہے۔ پاکستان کے اتنے بڑے جانی و مالی نقصانات سمیت کرتار پور کوریڈور کھولنے کے حوالے سے خارجہ پالیسی پر تفصیلی بحث کی جائے۔








