اسلام آباد ۔ 27 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے معاشی سفارت کاری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی سفارتکاری کا موثر استعمال برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور اپنی مصنوعات کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش میں معاون ثابت ہو سکتا ہے،معاشی بحالی اور اقتصادی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،پاکستان …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا معاشی سفارتکاری کے بارے میں دو روزہ کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 دسمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے معاشی سفارت کاری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی سفارتکاری کا موثر استعمال برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے، ادائیگیوں کے توازن میں بہتری اور اپنی مصنوعات کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش میں معاون ثابت ہو سکتا ہے،معاشی بحالی اور اقتصادی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،پاکستان 2050تک 16ویں بڑی معیشت بن جائیگا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو معاشی سفارتکاری کے بارے میں دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسد عمر، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد، اہم ممالک میں تعینات سفیروں، نجی و سرکاری شعبے اور حکومتی اداروں کے نمائندگان اور دیگر اعلیٰ حکام کانفرنس میں شریک ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان انسانی اور قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے، ہماری آدھی سے زیادہ آبادی 25 سال سے کم عمر ہے، پاکستان وسطی ایشیائ، چین اور مشرق وسطیٰ کو جوڑتا ہے، سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے گئے ہیں، سیاحتی مواقع کے حوالے سے بھی پاکستان پرکشش ملک کی حیثیت رکھتا ہے، ہمیں اپنے وسائل کو زیادہ سے زیادہ موثر انداز میں استعمال میں لانا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ترقی میں پیچھے رہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی مسابقت میں اضافہ کرنا ہے اور اپنی مصنوعات کے لئے نئی منڈیاں تلاش کرنا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جدید مصنوعات کی تیاری کے شعبہ میں سرمایہ کرنی ہے۔کانفرنس کا مقصد معاشی ڈپلومیسی کے ایجنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے، ایسے عوامل کا جائزہ لینا ہے جن کو بروئے کار لا کر سرمایہ کاری اور تجارت کے حجم میں اضافہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں صرف وہ معیشتیں ہی خوشحالی کی منزل حاصل کرسکی ہیں جنہوں نے تخلیقی انداز اختیار کیا، دنیا میں عالمی پیداواری بندھن کا حصہ بننا ہماری ضرورت ہے۔ پاکستان کی ترقی کا عمل ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے اورکشکول سے ہمیشہ کے لئے نجات پانے کیلئے ہمیں عالمی معیار کے پیمانے پر پورا اترتے ہوئے اپنی جگہ بنانے کی تگ ودو کرنا ہوگی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ قومی ترقی کے ایجنڈے کے مقصد کے حصول کے لئے ہمیں اپنی سفارتی مشینری کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لانا ہوگا اور علاقائی اور عالمی روابط کو فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ معاشی سفارت کاری وقت کی ضرورت ہے ۔ہماری حکومت نے معاشی بحالی اور شرح نمو کو اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں سرفہرست رکھا ہے۔ہمارے منشور میں سیاسی ومعاشی سفارتی کاری کا خیال پیش کیاگیا ہے، اس میں برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کے فروغ اور غربت کے خاتمے کے اہم اجزاءشامل ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت کے 100 اولین دن کی کارکردگی ہماری ترجیحات کا مظہر ہے۔ان سو دن میں ہم اپنے کلیدی اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور فوری طورپر ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے جن مشکلات کا ہمیں سامنا تھا، ان پر قابو پایاگیا۔ہم نے اور بھی زیادہ بہتر کارکردگی دکھانا ہے۔پاکستان کے عوام ہم سے یہی توقع کرتے ہیں کہ ہم بہترین صلاحیتوں سے ان کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی صورت گری کریں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو اپنی بہترین نعمتوں اور رحمتوں سے مالا مال کررکھا ہے، ہماری قوم کا عزم، افرادی قوت، بے بہا وسائل کی موجودگی اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم بہترین حکمت عملی وضع کرکے آگے بڑھیں اور قومی توقعات پر پورا اتریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے رقبے کے لحاظ سے الحمداللہ فرانس اور جرمنی کے مشترکہ رقبے کے مساوی ہے۔ اسی طرح برطانیہ سے موازنہ کریں تو پاکستان اس کے مقابلے میں تین گنا زیادہ بڑا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جس میں انگریزی بولنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے جبکہ اب ہماری آبادی میں چینی اور عربی زبان بولنے والے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری نصف سے زائد آبادی 25 سال سے بھی کم عمر باشندوں پر مشتمل ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان نوجوان آبادی کی نسبت سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں 179 ویں نمبر پرآتا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 194یونیورسٹیوں کی موجودگی کے ساتھ پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور تربیت یافتہ پیشہ وارانہ قابلیت رکھنے والے افراد موجود ہیں جو نہ صرف پاکستان کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ عالمی معیشت میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔ بیرونی دنیا میں آباد غیرملکیوں کے تناسب سے جائزہ لیاجائے تو پاکستانی غیرملکی باشندوں کی تعداد عالمی سطح پر چھٹی سب سے زیادہ تعداد مانی جاتی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا میں کپاس اور ڈیری مصنوعات کے حوالے سے ہم دنیا کے بڑے پیداواری ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ دنیا میں سب سے بڑے کوئلے، نمک اور دیگر معدنیات کے ذخائر اللہ کریم نے ہمیں عطا فرمائے ہیں۔ قدرت نے ہمیں جغرافیائی لحاظ سے بھی انتہائی متنوع مقام سے نوازرکھا ہے جہاں دنیا کی بلندترین چوٹیاں ہیں، جنگلات ہیں، صحرا ہیں اور ساحل ہیں۔اس بے بہا سمندری خزانے کو تاحال ہم تلاش نہیں کرپائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے اہم مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان دنیا کے تین کلیدی خطوں اور معاشی قوت کے مراکز تک رسائی کا منفرد ذریعہ ہے۔ ان میں جنوبی ایشیائ، وسطی ایشیائ، چین اور مشرق وسطی شامل ہے۔توانائی کی کھپت اور طلب کے لحاظ سے پاکستان آج بھی دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے۔ 2030ءتک ’پرائس واٹر ہاو س کوپرز پراجیکٹس پاکستان کے نتیجے میں ہم دنیا کی 20ویں سب سے بڑی معیشت ہوں گے جو 2050تک 16ویں سب سے بڑی معیشت ہوگی۔Goldman Sachs نے پاکستان کو ان گیارہ معیشتوں میں شامل کیا ہے جو عالمی سطح پر رواں صدی میں دنیا کی معاشی شرح نمو میں اپنا حصہ ڈالے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر سیاحت کے حوالے سے بڑے مقام کے طورپر اجاگر کرنا ہے جو ہماری توجہ کا محور ہے۔شرح مبادلہ کی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہماری برآمدات میں بہتری کا رجحان نمایاں ہورہا ہے۔ 2016-17ءمیں 20.45ارب امریکی ڈالرکے مقابلے میں 2017-18ءمیں23.33ارب امریکی ڈالر ہونے سے 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 36 سے 38 ٹریلین روپے کی حد اس سال عبور کرگئی ہے۔ ہمارے یہاں 200 کے قریب ملٹی نیشنلز کام کررہے ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی یہ غیرملکی کمپنیاں اچھا نفع کمارہی ہیں۔سی پیک کے اگلے مرحلے میں خصوصی اقتصادی زون کا جال ملک بھر میں قائم ہونے جارہا ہے۔اس سے ملک میں روز گار اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔







