اسلام آباد ۔ 24 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی پیک پر امریکی نائب وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان سی پیک پر ایلس ویلز کی رائے سے متفق نہیں، یہ کہنا درست نہیں کہ سی پیک سے ہمارے قرضوں میں اضافہ ہو گا، امریکی بیان سے سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، سی پیک منصوبے جاری …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ملتان میں میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 نومبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی پیک پر امریکی نائب وزیر خارجہ کے بیان کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان سی پیک پر ایلس ویلز کی رائے سے متفق نہیں، یہ کہنا درست نہیں کہ سی پیک سے ہمارے قرضوں میں اضافہ ہو گا، امریکی بیان سے سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، سی پیک منصوبے جاری رہیں گے، امریکہ سمیت دیگر ممالک اگر اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہیں تو اعتراض نہیں،ملک میں شفاف احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ اتوار کو ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے مسئلہ پر ناروے کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور اس ضمن میں پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا گیا، ناروے واقعہ سے1.3ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی’ ہم اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ناروے کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گستاخ قرآن کیخلاف کارروائی کرکے سزا دی جائے اور قرآن مجید کی بے حرمتی روکنے والے کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت کی ہٹ دھرمی جاری ہے، مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 112 روز ہو چکے ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی جموں کشمیر کے مسئلہ پر بھارتی حکومت کو اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیاہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کے داخلی و خارجی حالات کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر پس پشت چلا گیاتھا اور میڈیا کی توجہ اٹھ گئی تھی۔جس پر حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر کوعالمی سطح پر پھر سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا مسئلہ کشمیر کو نمایاں طور پراجاگر کرے۔انہوں نے کہا گزشتہ دنوں وزارت خارجہ میں کشمیر سیل کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں مسئلہ کشمیر پر سفارشات مرتب کی گئیں اور یہ فیصلہ کیا گیا کہہ کشمیر سیل کے اگلے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو مدعو کیا جائے گا اور سفارشات ان کے سامنے پیش کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر سیاسی جماعتوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ مسئلہ کشمیر پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور رہے گی۔ انہوں نے کہا امریکی کانگریس میں مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھایا گیا، کانگریس میں رکن راشدہ کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی ہے ، قراداد میں اقوام متحدہ ٹیم کی کشمیر میں رسائی کرفیو اور کمیونیکشن پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے ، قرارداد میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق وہی مطالبات ہیں جو پاکستان کے مطالبات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹرینز کوکشمیر لے جایا گیا۔ امریکی کانگریس کے ارکان نے بھی کشمیرجانے کی خواہش ظاہرکی ہے ،اقوام متحدہ کے مبصرین نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بھی مقبوضہ کشمیر تک رسائی دی جائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان احتساب کے لئے پرعزم ہیں اور حکومت صاف اور شفاف احتساب چاہتی ہے لیکن کوئی بھی احتسابی عمل سے گزرنا نہیں چاہتا۔ احتساب کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ احتساب کا سامنا کرنے والے تمام لوگوں کی خواہش ہے کہ وہ بیرون ملک چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے کیس پر تبصرہ نہیں کرناچاہتا ،کیس کا فیصہ کورٹ نے کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے۔سندھ کی حکومت ان کے تابع ہے اور ان کی ڈھال بنی ہوئی تھی اور سندھ حکومت تحقیقات میں نیب سمیت دیگر اداروں سے تعاون نہیں کررہی تھی۔اس لئے زرداری صاحب کا کیس پنڈی منتقل کیا گیا۔مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ مولانا اسلام آبادسے کیا لیکر گئے اسکا جواب وہ ہی دے سکتے ہیں۔میاں نواز شریف کی صحت بارے وزیراعظم کے بیان پر ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری مخدوم زادہ زین حسین قریشی’ صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک ‘ رانا عبدالجبار ودیگر شخصیات اس موقع پر موجود تھے۔ قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے سیاسی و سماجی شخصیت ملک احمد بخش مہے کی قل خوانی میں شرکت کی۔ مرحو م کے درجات کی بلندی کیلئے اجتماعی دعا کروائی اور مرحوم کے بڑے صاحبزادے ملک ظہور مہے کی دستار بندی کی۔ قل خوانی میں چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام ‘ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری مخدومزادہ زین حسین قریشی ‘ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری پیر ظہور قریشی ‘ رکن قومی اسمبلی ملک احمد حسین ڈیہڑ ‘ صوبائی وزراء ڈاکٹر اختر ملک ‘ سید حسین جہانیاں گردیزی ‘ سید عبدالقادر گیلانی ‘سید جاوید علی شاہ’ حافظ اقبال خان خاکوانی ‘ پیر سیف احمد قریشی ‘رانا عبدالجبار’ خالد جاوید وڑائچ ‘ سلمان قریشی سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔








