وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا فرانسیسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ ،کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالہ سے باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا

اسلام آباد ۔ 24 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لو دریان کو ٹیلیفون کیا ہے،انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلائو کو روکنے اور اس عالمی آفت سے نمٹنے کے لئے تعاون کے حوالہ سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اُن سے کورونا وائرس کے باعث فرانس …

اسلام آباد ۔ 24 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لو دریان کو ٹیلیفون کیا ہے،انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلائو کو روکنے اور اس عالمی آفت سے نمٹنے کے لئے تعاون کے حوالہ سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اُن سے کورونا وائرس کے باعث فرانس میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔ وزیر خارجہ نے فرانس میں مقیم کورونا وائرس سے متاثرہ 13 پاکستانیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے اور ان کی مناسب دیکھ بھال کرنے پر فرانسیسی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمیں اس عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ فرانس نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے وہ قابل تحسین ہیں۔ وزیر خارجہ نے فرانس میں مبینہ طور پر کورونا وبا سے متاثر پاکستانی شہریوں کا خصوصی خیال رکھنے پر فرانسیسی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ نے اس عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھی اپنے فرانسیسی ہم منصب کو آگاہ کیا۔ کورونا وبا پھوٹنے کی وجہ سے ایران کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، ہزاروں لوگ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور ایرانی حکومت، معاشی پابندیوں کے باعث، اس گھمبیر صورتحال پر قابو پانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران میں تیزی سے پھیلتی ہوئی اس وبا کو اگر نہ روکا گیا تو پورے خطے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت ایران پر عائد معاشی پابندیوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل اس عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔ وزیر خارجہ نے اس عالمی وبا کے تناظر میں گذشتہ آٹھ ماہ سے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو اور اس کے نتیجے میں خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار 8 ملین کشمیریوں کی تشویشناک صورتحال سے بھی اپنے فرانسیسی ہم منصب کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے کرفیو زدہ علاقے میں کورونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات آ رہی ہیں، عالمی برادری کو معصوم کشمیریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ کورونا عالمی وبا پھوٹنے سے کمزور معیشت کے حامل ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، برآمدات اور زرمبادلہ بہت حد تک کم ہونے کا اندیشہ ہے، اس تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک اپنے محدود وسائل کو اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لئے بروئے کار لا سکیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے ایران پر عائد پابندیوں کا معاملہ آئی ایم ایف اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مسائل کا مسئلہ جی 20 کے ساتھ اٹھانے کا عندیہ دیا۔ وزیر خارجہ نے موجودہ ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر 26 مارچ کو فرانس اور پاکستان کے مابین طے شدہ دو طرفہ اجلاس کو ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کرنے کی تجویز دی۔ فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لودریان نے اس مشکل گھڑی میں فرانس سے اظہار یکجہتی کرنے پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کا اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔