دوحہ۔28 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن سے پاکستان کے وسط ایشیا سے روابط بحال ہوں گے اور تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلیں گے، افغانستان میں قیام امن سے ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے، پاکستان نے قیام امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی ہے، ہماری سیکورٹی فورسز نے اور عوام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا قطر میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب

مزید خبریں
دوحہ۔28 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن سے پاکستان کے وسط ایشیا سے روابط بحال ہوں گے اور تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلیں گے، افغانستان میں قیام امن سے ہمارا مستقبل جڑا ہوا ہے، پاکستان نے قیام امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی ہے، ہماری سیکورٹی فورسز نے اور عوام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو قطر میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میرے یہاں آنے کا مقصد آپ کے علم میں ہے ہمیں توقع ہے کہ ہفتہ کو انشاءاللہ افغانستان میں ایک طویل جنگ کے بعد امن کا معاہدہ ہو گا۔اس معاہدے سے نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ پورا خطہ اس سے مستفید ہو گا۔جب امن و استحکام ہو گا تو تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلیں گے دو طرفہ تجارت کے فروغ کیلئے بے پناہ مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اسی لیے ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔افغانستان میں قیام امن سے ہمیں توانائی کے حصول میں مدد ملے گی ہم کاسا 1000 منصوبے سے استفادہ حاصل کر سکیں گے۔، وسط ایشیا سے ہمارے روابط بحال ہوں گے اور پن بجلی کی صورت میں سستی بجلی میسر آ سکے گی اور تاپی منصوبے پر عمدرآمد میں تیزی آئیگی۔پاکستان نے قیام امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی ہے ہماری سیکورٹی فورسز نے، پولیس نے، عام شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ ناقدین جو کل تک پاکستان کو دہشت گردی کی جڑ قرار دے رہے تھے آج قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا رہے ہیں اور پاکستان کو پارٹنر ان پیس قرار دے رہے ہیں ۔افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں کو خود کرنا ہے ۔ہمارے پڑوس اور افغانستان میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جن کو یہ امن معاہدہ ہضم نہیں ہو گا کیونکہ ان کا کاروبار تخریب سے چلتا ہے لیکن ہم نے افغانستان کے ساتھ نئے رشتے کی بنیاد رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان پر واضح کیا ہے کہ ہم آپکے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ہم ایک اچھے ہمسایہ کی طرح برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے قطری قیادت سے گزارش کی ہے پاکستان کے پاس ہنرمند لیبر موجود ہے جو وہ ان کے ہاں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ میں تعمیراتی کام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔








