اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پلوامہ حملے پر بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا،بھارت کے جارحانہ رویے نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پرلایا،موجودہ حالات میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، پاکستان کے مفادات پر ہم سب متفق ہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری ہیں اور وہاںکشمیری مشکل زندگی بسر کر …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا نسٹ یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پلوامہ حملے پر بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا،بھارت کے جارحانہ رویے نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پرلایا،موجودہ حالات میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، پاکستان کے مفادات پر ہم سب متفق ہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری ہیں اور وہاںکشمیری مشکل زندگی بسر کر رہے ہیں۔مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کی خاموشی معنی خیز ہے۔بدھ کو نسٹ یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی کے دنوں میں میں نے وزارت خارجہ میں موجودہ سیکرٹری خارجہ سمیت 6 سابقہ سیکرٹریوں کے ساتھ مشاورت کی۔28 فروری کو وزیر اعظم عمران خان سے مشاورت کے بعد میں نے تمام سیاسی جماعتوں کو اور پارلیمانی رہنماو¿ں کو خطوط لکھے۔جس میں ان سے گزارش کی کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی مفاد پر ہم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین شہباز شریف اور آصف علی زرداری سے خود فون پر رہنمائی کی دعوت دی ،ان کا رسپانس منفی نہیں تھا لیکن اس میں ہچکچاہٹ تھی مگر ہم ان کی مجبوریوں کو بھی سمجھتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ آئندہ آنے والے دلوں میں ہمیں جن اہم چیلجز کا سامنا ہو گا ان میں بلوچستان بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دن پہلے میں وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ کوئٹہ گیا آرمی چیف بھی موجود تھے وہاں ہم نے کوئٹہ زوب موٹر وے ، اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال اور ائر پورٹ کا سنگ بنیاد رکھا ہم بے خبر نہیں ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے میں نے اپنی پارٹی کی نمائندگی کی اور اب الحمداللہ فاٹا مرکزی دھارے میں شامل ہو چکا ہے۔گلگت بلستان میں بعض قوتوں کی جانب سے ایک تحریک کو ہوا دی جا رہی ہے ہم اس سے بھی غافل نہیں ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان جب اختلاف عروج پر اور ہم 126 دن کے دھرنے پر تھے کہ پشاور سکول کا سانحہ پیش آیا جس سے نیشنل ایکشن پلان شروع ہوا۔میں پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ پاک فوج نے ردالفساد اور ضرب عزب میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور اب ان علاقوں میں امن قائم ہے ۔لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر صورتحال حوصلہ افزا نہ تھی سابقہ حکومت میں وہ کمٹمنٹ نہیں تھی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت، پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے کمزور کرنے کی غرض سے گرے لسٹ میں شامل کرنے کیلئے اپنی ساری کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں ہندوستان کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر آپ امن کی طرف ایک قدم بڑھائیں گے ہم دو قدم بڑھائیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے مودی جی کو خط لکھ کر کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین میٹنگ ہونی چاہیے چنانچہ میٹنگ 24 ستمبر کو رکھی گئی مگر سشما سوراج نے عین وقت پر راہ فرار اختیار کی اور اجلاس نہ ہو سکا۔ وزیر خارجہ نے کشمیر سے متعلق کہا کہ 5فروری کو کشمیر ڈے پر ہم تمام پارلیمانی پارٹیوں کو برطانیہ لے کر گئے اور ہاوس آف کامنز میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد کی گئی جس میں برٹش پارلیمنٹریز نے ہماری آواز میں آواز ملایا اور 5 فروری کو لندن کی سڑکوں پر فقیدالمثال اجتماعہوا جو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یورپین پارلیمنٹ میں مقررین میں محترمہ مشال ملک کو بھی شامل کیا تھا مگر انہیں ویزہ نہیں دیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور وہاں کشمیری عوام مشکل ذندگی گزار رہے ہیں۔








