اسلام آباد ۔ 27 دسمبر (اے پی پی) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پیداوار اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تجارت پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے، بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارتکار تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنا کردار …
وزیر خزانہ اسد عمر کا معاشی سفارتکاری کے بارے میں دو روزہ کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 دسمبر (اے پی پی) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پیداوار اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تجارت پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے، بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارتکار تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے یہ بات جمعرات کو معاشی سفارتکاری کے بارے میں دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسد عمر، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد، اہم ممالک میں تعینات سفیروں، نجی و سرکاری شعبے اور حکومتی اداروں کے نمائندگان اور دیگر اعلیٰ حکام کانفرنس میں شریک ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں معیشت کی بہتری میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے، جب پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو ہمیں ادائیگیوں کے عدم توازن کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ روزگار، سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، ہمیں بیروزگار کے خاتمے اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے لئے ہنر مندی کے فروغ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کرنا ہے۔ انہوں نے بیرون ملک تعینات سفیروں پر زور دیا کہ وہ بیرون ملک میں سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان صرف چینی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے، ہم مغربی ممالک، جاپان سمیت دیگر ممالک کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قطر، سعودی عرب، ابوظہبی، ملائیشیا، سنگاپور جیسے ممالک پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ ہمیں تحقیق کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہو گا، برآمدات کے فروغ کے لئے انجینئرنگ، کیمیکلز سمیت دیگر شعبوں سے فائدہ اٹھانا ہو گا، ہمیں برآمدات کے فروغ کے لئے نئی منڈیاں تلاش کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانے تجارت کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لئے اپنا کردار موثر انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برآمدات کیلئے ٹیکسٹائل پر زیادہ انحصار کر رہا ہے جس کا عالمی مارکیٹ میں حصہ کم ہو رہا ہے لہذا موجودہ حکومت نے انڈسٹریل پالیسی کا ایک ڈرافت تیار کر لیا ہے اور نئی صنعتی پالیسی میں ٹیکسٹائل کے علاوہ انجینئرنگ، کیمیکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت سمیت دیگر صنعتوں کی ترقی پر توجہ دی جائے گی تا کہ یہ صنعتیں برآمدات کو بڑھانے میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات کو موجودہ سطح سے بڑھا کر 50ارب ڈالر سے 150ارب ڈالر تک لے جانا چاہتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت چین، جاپان، جنوبی کوریا، ملائشیا اور ترکی سمیت متعدد ممالک کے ساتھ پاکستانی مصنوعات کیلئے بہتر مارکیٹ رسائی حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے تا کہ پاکستان کی برآمدات کو بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا نے پاکستان کو 20اشیاءپر ڈیوٹی فری رسائی فراہم کر دی ہے لہذا تاجر برادری اس سہولت سے فائدہ اٹھائے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے اور کاروبار کی لاگت کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔







