اسلام آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے طورخم جلال آباد شاہراہ پر اضافی کیرج وے کی تعمیر کے لئے 500 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ادویات اور اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور وزارت قومی غذائی تحفظ اور وزارت قومی صحت وخدمات کو مختلف اشیاءکی قیمتوں میں …
وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 اپریل (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے طورخم جلال آباد شاہراہ پر اضافی کیرج وے کی تعمیر کے لئے 500 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ادویات اور اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور وزارت قومی غذائی تحفظ اور وزارت قومی صحت وخدمات کو مختلف اشیاءکی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لئے عملی اقدامات کی ہدایت بھی کی۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کا اجلاس پیر کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں مواصلات ڈویژن کی جانب سے وزیر اعظم کے افغانستان کی تعمیر نو پروگرام کے تحت طورخم جلال آباد روڈ پر اضافی کیرج وے کی تعمیر کے لئے 500 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی تجویز کی منظوری دے دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کے نتیجہ میں نہ صرف دونوں ممالک کے عوام اور تاجر برادری کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اس سے پاکستان اور افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کارپوریشن کے احیائے نو کے لئے قائم کمیٹی نے سٹیل ملز کو منافع بخش اور مسابقتی ادارہ بنانے کے لئے مختلف تجاویز پرمبنی جامع پریذینٹیشن دی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے صنعت و پیداوار ڈویژن اور پرائیویٹائزیشن کمیشن کو سمری کی صورت میں باضابطہ تجاویز ای سی سی کو پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس ضمن میں حتمی فیصلہ کیا جاسکے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ادویات اور اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور وزارت قومی غذائی تحفظ اور وزارت قومی صحت وخدمات کو مختلف اشیاءکی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لئے عملی اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کمیٹی کو مختلف صنعتی سیکشنز سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی ریکوریز کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کو مختلف عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی سے متعلق مقدمات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں محاصلات کی وصولیوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔








