اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کل تک کا فیصلہ تھا کہ جس دن سپریم کورٹ کا فیصلہ آ یا خواہ حق میں یا مخالفت میں ہواس دن وزارت اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دوں گا،جب حالات نہیں سنبھلے تو میرے ذہن میں آیا کہ انتہائی فیصلہ کروں لیکن پھر چند دوستوں سے ملاقات کے بعد فیصلہ …
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 جولائی (اے پی پی) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کل تک کا فیصلہ تھا کہ جس دن سپریم کورٹ کا فیصلہ آ یا خواہ حق میں یا مخالفت میں ہواس دن وزارت اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دوں گا،جب حالات نہیں سنبھلے تو میرے ذہن میں آیا کہ انتہائی فیصلہ کروں لیکن پھر چند دوستوں سے ملاقات کے بعد فیصلہ تبدیل کر دیا،میں کسی سے ناراض نہیں ہوں،میری پارٹی اور قیادت پر مشکل وقت ہے، میں ناراض کیوں ہوں گا، میں نے ہمیشہ اپنی ذات کو ایک طرف رکھ کر اپنی زندگی مسلم لیگ اور نوازشریف کیلئے داﺅ پر لگائی ہے،جس شخص نے 33 سال اپنی زندگی کا سب کچھ اس پارٹی کو دیا وہ مشکل وقت میں کیسے پارٹی کو چھوڑ سکتا ہے، وزیر اعظم سرخرو ہونگے تو مبارکباد دینے جاﺅں گا،اگر خدانخواستہ فیصلہ وزیراعظم کیخلاف آیا تو چٹان کی طرح سب سے آگے ہوں گا۔ملک شدید خطرات سے دوچار ہے، گہرے بادل منڈلا رہے ہیں، ہمیں گھیرے میں لیا جا رہا ہے، اداروں میں ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے ملک کا تحفظ کرنا ہے، سیاسی جنگ ضرور لڑیں لیکن آپس میں کسی قسم کے انتشار اور نفرت کا موجب نہ بنیں، عدلیہ کا فیصلہ خواہ حق میں ہو یا مخالفت میں سب اسے تسلیم کریں، سازش میرے خون اور خمیر میں نہیں، جس قسم کی سیاست ہو رہی ہے اس سے دل اچاٹ ہو گیا، اپنی پارٹی سے پیار ہے، وزیراعظم نوازشریف نے محنت اور ثابت قدمی سے اسے قائم کیا۔ جمعرات کو یہاں پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج وہ اپنی زندگی کی مشکل ترین پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔








