اسلام آباد ۔ 19 مئی (اے پی پی) وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کراچی سے پشاور تک مین لائن پر سی پیک کے تحت ایک ہزار ارب روپوں کی سرمایہ کاری خوش آئند ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ریلویز ملک بھر میں چھوٹے اور بڑے شہروں کے درمیان برانچ لائنوں پر چلنے والی اپنی ٹرینوں کو نظرانداز نہیں کر سکتا، ہمیں ان کی حالت …
وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت اہم اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 مئی (اے پی پی) وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کراچی سے پشاور تک مین لائن پر سی پیک کے تحت ایک ہزار ارب روپوں کی سرمایہ کاری خوش آئند ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ریلویز ملک بھر میں چھوٹے اور بڑے شہروں کے درمیان برانچ لائنوں پر چلنے والی اپنی ٹرینوں کو نظرانداز نہیں کر سکتا، ہمیں ان کی حالت کو بہتر بناتے ہوئے اپنے مسافروں کو زیادہ محفوظ، باکفایت اور تیز رفتار سفر کی سہولتیں فراہم کرنی ہیں۔ وہ گذشتہ روز برانچ لائنوں پر چلنے والی ٹرینوں کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں ایڈیشنل جنرل منیجر ٹریفک عبدالحمید رازی نے ملت ایکسپریس، بہاﺅالدین زکریا ایکسپریس، سندل ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس، فیض احمد فیض ایکسپریس، اٹک پسنجر، راولپنڈی پسنجر، جند پسنجر، بدین ایکسپریس، چمن ہسنجر، چناب ایکسپریس اورملکوال پنڈ دادن خان سے چلنے والی شٹل ایکسپریس سمیت دیگر ٹرینوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان ریلویز نے برانچ لائنوں پر اپنے مسافروں کو سہولت دینے کے لئے کرایوں میں حال ہی میں دس فیصد رعائیت دی ہے۔ وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے اے جی ایم ٹریفک عبدالحمید رازی، سی او پی ایس وقار احمد شاہد اور چیف انجینئر اوپن لائن بشارت وحید کو ذمہ داریاں دیں کہ وہ مختلف ٹرینوں کے سفر کے وقت کو کم کرنے اور ٹریک کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے ٹھوس سفارشات پندرہ روز کے اندر دیں۔ انہوں نے ملکوال سے پنڈ دادن خان کے دورمیاں شٹل سروس میں بوگیوں کی تعداد تین سے پانچ کرنے کی بھی ہدایت کی۔








