وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا ایوان بالا میں تحریک التواءپر اظہارخیال

اسلام آباد ۔ 30 اکتوبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ لینڈ ریفارمز کمیشن سے وزارت اطلاعات کا تعلق نہیں بنتا، کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ ہو جائے گا کہ اس کو کس وزارت کے تحت ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں وزارت اطلاعات سے وزیراعظم آفس کو سمری بھجوائی جا چکی ہے اور یہ …

اسلام آباد ۔ 30 اکتوبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ لینڈ ریفارمز کمیشن سے وزارت اطلاعات کا تعلق نہیں بنتا، کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ ہو جائے گا کہ اس کو کس وزارت کے تحت ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں وزارت اطلاعات سے وزیراعظم آفس کو سمری بھجوائی جا چکی ہے اور یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے میں آ جائے گا۔ پیر کو ایوان بالا میں سینیٹر کریم خواجہ کی تحریک التواءپر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لینڈ ریفارمز کمیشن اور وزارت اطلاعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، اس ادارے کے قانونی معاملات کے لئے ہمیں وزارت قانون سے رجوع کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ عدالتی معاملات ہوں یا دیگر قانونی معاملات ، اس کے لئے وزارت قانون سے ہی رائے لی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو وزارت قانون کے تحت دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ لینڈ کمشنر کا بھی تقرر ہو سکے اورالتواءکا شکار معاملہ کو بھی حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس حوالے سے انہوں نے بریفنگ دی تھی۔ شریعت اپیلٹ کورٹ کے 1991ءکے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ ریفارمز کے حوالے سے 8662 کیسز ہیں جن میں سے کچھ کیسز سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں چونکہ لینڈ ریفارمز کا محکمہ اپنی متعلقہ وزارت سے منسلک نہیں ہے اس لئے معاملات تاخیر کا شکار ہیں۔ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ ہو جائے گا کہ اس کو کس وزارت کے تحت ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں وزارت اطلاعات سے وزیراعظم آفس کو سمری بھجوائی جا چکی ہے اور یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے میں آ جائے گا۔ تحریک پر سینیٹر تاج حیدر، اعظم سواتی، طاہر حسین مشہدی، فرحت اﷲ بابر اور عثمان کاکڑ نے اظہار خیال کیا۔

Leave a Reply