وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کی پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بنگلہ دیش کے صحافیوں کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلقات ہیں،مشترکہ عقیدہ،تاریخ اور ثقافت ان تعلقات کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں،پاکستان ایک بھرتی ہوئی معیشت ہے،تمام بین الاقوامی سروے ہمارے ملک کی تیزی سے ترقی اور یہاں سرمایہ کاری کے مواقعوں کے بارے میں …

اسلام آباد ۔ 15 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلقات ہیں،مشترکہ عقیدہ،تاریخ اور ثقافت ان تعلقات کو مزید مستحکم بنا سکتے ہیں،پاکستان ایک بھرتی ہوئی معیشت ہے،تمام بین الاقوامی سروے ہمارے ملک کی تیزی سے ترقی اور یہاں سرمایہ کاری کے مواقعوں کے بارے میں مثبت رپورٹیں دے رہے ہیں،سی پیک انتہائی اہم کامیابی ہے، جس سے دنیا کی 65 اقوام ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں گی،اس سے نہ صرف پاکستان اور چین کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ منصوبہ پورے خطے کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا،پاکستان میں سول سوسائٹی فعال اور میڈیا متحرک ہے،ہر گزرتے دن کے ساتھ یہاں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے، وہ بنگلہ دیش کے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے صحافیوں کے وفد سے گفتگو کر رہی تھیں جنہوں نے پیر کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ آرٹ اور ثقافت پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین باہمی تعلقات کو استوار کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی مضبوطی کے عمل کو اس کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین رابطوں کو بڑھانے کیلئے نئے مواقع بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت دنیا کے مختلف خطوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے باہمی مفاد میں موجودہ تعاون کو مزید فروغ دینے اور مستحکم بنانے کیلئے مزید مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف خطے میں پرامن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کا وژن رکھتے ہیں اور پرامن ہمسائیگی کے تصور کی طرف گامزن ہیں۔

Leave a Reply