اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہاہے کہ رانا ثناءاللہ تاخیری حربے اختیارکرکے منشیات برآمدگی کیس کی سماعت شروع نہیں کرارہے، اگر وہ سچے ہیں تو پارلیمان میں اعلان کرے کہ وہ 18 تاریخ سے کیس کی سماعت شروع کررہے ہیں، کیس کا فیصلہ ایوان نے نہیں بلکہ عدالت نے کرنا ہے، حقائق قوم کے سامنے آئیں گے، دونہیں ایک …
وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہاہے کہ رانا ثناءاللہ تاخیری حربے اختیارکرکے منشیات برآمدگی کیس کی سماعت شروع نہیں کرارہے، اگر وہ سچے ہیں تو پارلیمان میں اعلان کرے کہ وہ 18 تاریخ سے کیس کی سماعت شروع کررہے ہیں، کیس کا فیصلہ ایوان نے نہیں بلکہ عدالت نے کرنا ہے، حقائق قوم کے سامنے آئیں گے، دونہیں ایک پاکستان کے تصورکے تحت وزیراعظم عمران خان بھی قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں شہریار آفریدی نے ذاتی وضاحت کے نکتے پر کہا کہ ہم سب کے لئے اہم چیز آئین اور قانون کی پاسداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کا معاملہ عدالت میں ہے۔ رانا ثناءاللہ نے قرآن مجید اٹھا کر پریس کانفرنس کی اور ایوان میں بھی لے کر آئے۔ اس ایوان کی عزت اور تقدس ہماری اولین ترجیح ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ انہیں قرآن کریم کی یاد آئی۔ وزیر مملکت شہریار آفریدی نے کہا کہ ماڈل ٹاﺅن کے شہید پوچھ رہے ہیں کہ رانا ثناءاللہ کب قرآن ہاتھ میں اٹھا کر آجائے تاکہ ان کے کیس کا فیصلہ ہو سکے اور مقتولین کے ورثاءکو انصاف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ دس سال قانون کے وزیر رہے۔ سی این ایس کورٹس ان کی حکومت نے منظور کئے تھے۔ آج جب ان پر مقدمہ بنا ہے تو انہیں ان عدالتوں میں کوتاہیاں اور خامیاں نظر آرہی ہیں۔ وزیر مملکت انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کو احساس ہونا چاہیے تھا کہ عدالت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ جب آرٹیکل 63-62 کا معاملہ آیا تو عمران خان نے خود منی ٹریل دی‘ وہ چھپے نہیں بلکہ ایک ایک روپے کا حساب دیا۔ رانا ثناءاللہ حیلے حربے اختیار کرکے منشیات برآمد کیس کا ٹرائل شروع نہیں کرا رہے۔ اس کیس کا فیصلہ میڈیا اور پارلیمان نے نہیں بلکہ عدالت نے کرنا ہے۔ اگر آپ سچے ہیں تو ٹرائل شروع ہونے دیں اور وہاں اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ تاخیری حربوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ آیان علی کے کیس‘ رانا مشہود او ماڈل ٹاﺅن کے کیس میں ویڈیوز موجود تھیں۔ عابد شیر علی کے والد نے کہا کہ 21 لوگ مارے گئے۔سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز کے تحت ویڈیو فوٹیج کی اصل ہونے کے لئے 20 نکات مقرر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ قسمیں کھا رہا ہے۔ میں نے اگر ایک پریس کانفرنس میں قسم اٹھائی تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ اگر جھوٹا ہوں تو مجھے مرتے وقت کلمہ نصیب نہ ہو۔ وزیر مملکت شہریار آفریدی نے کہا کہ 18 تاریخ کو اس کیس کی سماعت ہے۔ رانا ثناءاللہ آج ایوان میں اعلان کریں کہ وہ کیس کا ٹرائل شروع ہونے دیں گے۔انہیں قرآن مجید سے عمل سیکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ آئیں بائیں شائیں کی بجائے حقائق کا سامنا کریں اور کیس چلنے دیں‘ حقائق قوم کے سامنے آ جائیں گے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ حکومت اور وزارت رانا ثناءاللہ کو بھاگنے نہیں دے گی کیونکہ یہ میرے ملک اور ہماری نسلوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ اے این ایف موثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے دو نہیں ایک پاکستان کی بات کی تھی‘ اس تصور کے مطابق وزیراعظم عمران خان بھی آئین اور قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔ رانا ثناءاللہ ہمت کریں اور ٹرائل شروع کرنے دیں حقائق قوم کے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ وہ وکیل رہے ہیں اور یہ ان کا ذریعہ آمدنی ہے۔ حالانکہ انہوں نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں ایک کیس بھی نہیں لڑا۔ اس کے باوجود ان کے 1000 ملین سے زائد اثاثے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظالم کے آگے ڈٹ جانا ہمارا ایمان ہے اور ہم اس پر قائم رہیں گے۔








