وزیر مملکت ڈاکٹر مختار احمد ملک کا او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وزیر مملکت ڈاکٹر مختار احمد ملک نے او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کیا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں تبدیلی کے بعد ’’وے فارورڈ‘‘ سیشن او آئی سی کامسٹیک سیکرٹریٹ کے الخوارزمی کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر مختار احمد ملک نے کہا کہ ویکسین صحت عامہ کے لیے ایک لازمی عوامی اثاثہ ہیں جو صحت کے تحفظ، مساوات اور …

اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وزیر مملکت ڈاکٹر مختار احمد ملک نے او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کیا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں تبدیلی کے بعد ’’وے فارورڈ‘‘ سیشن او آئی سی کامسٹیک سیکرٹریٹ کے الخوارزمی کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر مختار احمد ملک نے کہا کہ ویکسین صحت عامہ کے لیے ایک لازمی عوامی اثاثہ ہیں جو صحت کے تحفظ، مساوات اور او آئی سی رکن ممالک میں پائیدار ترقی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر ویکسین کی تیاری انتہائی محدود ممالک تک مرکوز ہے جہاں 70 فیصد سے زائد ویکسین دس سے کم ممالک میں تیار ہوتی ہیں جس کے باعث کم اور متوسط آمدن والے ممالک بیرونی سپلائرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ڈاکٹر مختار احمد ملک نے کووڈ-19 وباء سے حاصل ہونے والے اسباق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی جن کی پیداوار، ٹیکنالوجی تک رسائی، ریگولیٹری استعداد اور سپلائی چین کے شعبوں میں اب بھی سنگین کمزوریاں موجود ہیں بالخصوص او آئی سی خطے میں۔

انہوں نے انڈونیشیا، ترکیہ، ایران اور مصر میں موجود ویکسین مینوفیکچرنگ صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی ممالک میں مجموعی صلاحیت منتشر ہے جسے موثر اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سیسرک (SESRIC) کی میپنگ سٹڈی کو ایک بنیادی ذریعہ قرار دیا جو رکن ممالک میں مینوفیکچرنگ صلاحیت، ریگولیٹری تیاری اور طلب کا جائزہ فراہم کرتی ہے اور شواہد کی بنیاد پر تعاون، ٹیکنالوجی منتقلی اور ہدفی سرمایہ کاری کو ممکن بناتی ہے۔

پاکستان کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار احمد ملک نے کہا کہ ویکسین کی تیاری کو قومی سٹریٹجک ترجیح قرار دیا گیا ہے جس کے لیے نیشنل ویکسین پالیسی، ریگولیٹری نظام کی مضبوطی، مالی مراعات، خصوصی اقتصادی زونز اور طویل المدتی سرکاری خریداری کے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس، حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار تعاون پر زور دیتے ہوئے نیشنل ویکسین فنڈ اور نیشنل ویکسین الائنس کے قیام کی تجاویز پیش کیں تاکہ سرمایہ کاری کو متحرک اور منصوبوں کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

وزیر مملکت نے مزید بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے میچورٹی لیول تھری کے حصول کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے جبکہ ڈبلیو ایچ او کے معیارات کے مطابق اور پری کوالیفائیڈ ویکسین مینوفیکچرنگ سہولیات کے قیام کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے قابل عمل ویکسین مینوفیکچرنگ منصوبوں کے لیے 250 ملین امریکی ڈالر تک رعایتی فنانسنگ فراہم کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔اختتام پر ڈاکٹر مختار احمد ملک نے واضح اہداف، مقررہ مدت اور مشترکہ ذمہ داریوں پر مشتمل عملدرآمد پر مبنی روڈمیپ کی ضرورت پر زور دیا اور او آئی سی رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دے کر ایک مضبوط، خود کفیل اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ویکسین مینوفیکچرنگ نظام تشکیل دیں۔