چیف جسٹس وفاقی آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا بنیادی مقصد تیز رفتار اور موثر آئینی انصاف کی فراہمی، مقدمات کے بروقت فیصلوں اور آئینی بالادستی کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت شہریوں کو فوری آئینی ریلیف فراہم کرنے اور زیر التواء مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
وفاقی آ ئینی عدالت فوری آئینی ریلیف اور زیر التواء مقدمات جلد نمٹانے کے لیے کوشاں ہے، چیف جسٹس امین الدین خان
اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):چیف جسٹس وفاقی آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا بنیادی مقصد تیز رفتار اور موثر آئینی انصاف کی فراہمی، مقدمات کے بروقت فیصلوں اور آئینی بالادستی کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت شہریوں کو فوری آئینی ریلیف فراہم کرنے اور زیر التواء مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو وفاقی آئینی عدالت میں بنگلہ دیش کے سینئر سول سرونٹس پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس میں ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی اور ممتاز فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔
ملاقات میں عدالت کے معزز ججز جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ سمیت رجسٹرار بھی شریک تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ برادر ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون اور تجربات کا تبادلہ گورننس اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے روابط اداروں کو مضبوط بنانے اور بہتر طرز حکمرانی کے فروغ میں مدد دیتے ہیں۔بنگلہ دیشی وفد اس وقت پاکستان میں ایگزیکٹو لیڈرشپ ڈویلپمنٹ ٹریننگ پروگرام کے تحت موجود ہے جس کا مقصد گورننس، آئینی انتظامی امور اور پبلک سروس لیڈرشپ میں عملی مہارت کو فروغ دینا ہے۔ پروگرام کے تحت شرکا مختلف اداروں کے دورے اور اعلیٰ سطح ملاقاتوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ملاقات کے دوران آئینی ارتقاء، ادارہ جاتی ترقی، عدالتی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ادارہ جاتی تعاون اور تجربات کا تبادلہ جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس موقع پر ایک ڈاکیومنٹری بھی پیش کی گئی جس میں وفاقی آئینی عدالت کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی اور ادارہ جاتی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا۔
ڈاکیومنٹری میں عدالت کے آئینی انصاف کے نظام کو موثر بنانے کے عزم کو نمایاں کیا گیا۔بنگلہ دیشی وفد نے چیف جسٹس اور معزز ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئینی عدالتی نظام اور ادارہ جاتی اصلاحات سے سیکھنے کا موقع ان کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جس میں مستقبل میں ادارہ جاتی تعاون اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔









