وفاقی حکومتِ نے بلوچستان میں ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ مرکوز کر دی ہے، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومتِ نے بلوچستان میں ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ صوبائی حکومت بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں میں مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کر رہی ہے۔ایوان بالا کے اجلاس میں جمعہ کو سینیٹر جان محمد بلیدی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے سوال …

اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومتِ نے بلوچستان میں ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ صوبائی حکومت بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں میں مختلف منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کر رہی ہے۔ایوان بالا کے اجلاس میں جمعہ کو سینیٹر جان محمد بلیدی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے سوال کے جواب میں جن سڑکوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سی پیک سے پہلے کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑک جنرل مشرف کے دور کی ہے اور بعد میں اسے سی پیک سے جوڑا گیا، اس لیے واضح کیا جائے کہ کیا اس کی فنڈنگ بھی سی پیک سے ہو رہی ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت بلوچستان کے ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شاہراہ کی تعمیر جاری ہے اور اس منصوبے کے لیے پندرہ دن کی ادائیگیوں کے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔سینیٹر دنیش کمار نے ایم ایٹ سڑک کے منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو بیس سال ہو چکے ہیں لیکن سڑک تاحال مکمل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑک موٹروے کے نام پر دھبہ ہے، کیونکہ موٹروے کا مطلب دو رویہ سڑک اور ڈیوائیڈر ہوتا ہے، جبکہ یہاں ایک رویہ سڑک کو موٹروے کا نام دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ہے۔اس کے جواب میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایم ایٹ کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے گئے وہ درست نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر سال پی ایس ڈی پی کے تحت پنجاب سے زیادہ فنڈز بلوچستان کو دیے جاتے ہیں اور ہر مسئلے پر مظلومیت کا رونا دھونا درست طرز عمل نہیں۔سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ اگر عوامی مسائل پر ایوان میں بات نہ کی جائے تو پھر کہاں کی جائے۔ انہوں نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔