وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری کی میڈیا سے گفتگو

لاہور۔19 جنوری(اے پی پی ) وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کو سیاسی چیلنجز درپیش ہیں نہ ہی کسی قسم کا کوئی خطرہ ہے ،پاکستان کے اچھے دن شروع ہوگئے ہیں ،سیاسی جماعتوں میں ایشوز آتے رہتے ہیں کوئی چھوڑ کرجانے والا نہیں ،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے جھگڑا صرف کرپشن میں ریلیف دینے کا ہے، دونوں جماعتیں چاہتی ہیں کہ ان کی قیادت کو …

لاہور۔19 جنوری(اے پی پی ) وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کو سیاسی چیلنجز درپیش ہیں نہ ہی کسی قسم کا کوئی خطرہ ہے ،پاکستان کے اچھے دن شروع ہوگئے ہیں ،سیاسی جماعتوں میں ایشوز آتے رہتے ہیں کوئی چھوڑ کرجانے والا نہیں ،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے جھگڑا صرف کرپشن میں ریلیف دینے کا ہے، دونوں جماعتیں چاہتی ہیں کہ ان کی قیادت کو کرپشن کے مقدمات میں ریلیف دیدیا جائے ، فوجی عدالتیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت بنائی گئیں اور سب کے اتفاق رائے سے بنی تھیں، ملک سے متعلق فیصلوں کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے،تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی سیاست کرنے کا حق حاصل ہے، پی ٹی آئی اور ق لیگ ایک جماعت نہیں، ق لیگ کے تحفظات کو دور کیا جائے گا، چوہدری برادران سے ملاقات ہوتی رہتی ہے، کوئی اتحادی چھوڑ کر نہیں جارہا۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روزیہاں مقامی ہوٹل میں منو بھائی کی برسی کے حوالے سے منعقدہ تقریب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ( ن) یا پیپلزپارٹی کی طرف سے کوئی بہتر تجویز آئی تو غور کریں گے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت ہر جماعت کا سیاسی نظریہ ہے، جمہوریت جرائم پر پردہ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ احتساب کا نام ہے ،سیاسی جماعتوں کے بغیر ملک نہیں چلتا، سیاسی جماعتیں حقیقت ہیں، یہاں جھگڑا صرف سیاسی جماعتوں میں دو بڑوں کو این آر او دینے کا ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ معیشت بہتر ہورہی ہے، یہ سال بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات کا ہوگا، اس سال پاکستان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ایکسپورٹ کرے گا اور اس سال پاکستان میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری آئے گی، اس سال عمران خان کی قیادت میں معاشی سفر طے کریں گے۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ پر سنگین الزامات ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ وہ خود ہی چلے جائیں ،جمہوریت جرائم پر پردہ ڈالنے کا نام نہیں ہے ،این آر او تو سارے ہی مانگ رہے ہیں،آئین میں ترمیم کے لیے تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہونا چاہئے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان میں یہ سال ایکسپورٹ کا سال ہوگا ،اس سال کو معاشی مضبوطی کے طور پر منائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف ایک جماعت نہیں ،مسلم لیگ ق کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سیاست کریں ،جو ان کے گلے شکوے ہیں وہ دور کئے جائیں گے ،حکومت کو کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں ہے ،اچھے دنوں میں ویسے بھی کوئی چھوڑ کر نہیں جاتا ۔ایک اور سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ آرمی کورٹس کی حیثیت سے انکار نہیں، عمومی ادارے وہ کام نہیں کرسکے جس کے لیے آرمی کورٹس بنائیں ،فوجی عدالتوں پر سب کو اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ سیاسی جماعتیں ہیں ،جھگڑا ان جماعتوں سے نہیں بلکہ ان کے لیڈروں کو ریلیف دینے پر ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیم پاکستان کی ضرورت ہے اس پر غیر ضروری تنقید نہیں ہونی چاہیے’ ملک میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے’ دنیا کی تیسری بڑی آئل ریفائنری لگانے جارہے ہیں’ کل 2019ء کا سی پیک پلان متعارف کروایا جائیگا’ سی پیک میں انفراسٹرکچر سے ہٹ کر رئیل ایشوز پر کام شروع کر دیا ہے۔