اسلام آباد ۔ 12 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں کے پیچھے سوچ کا محور غریب اور پسماندہ طبقے کی فلاح و بہبود ہے، ماضی کے حکمرانوں نے ذاتی مفاد اور اشرافیہ کیلئے پالیسیاں بنائیں اور غریب طبقات کو ہمیشہ نظر انداز کیا، حکومت کی سبسڈی سے تو سب لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور اشرافیہ بھی …
وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی وزیراعظم کی زیر صدارت مہنگائی اور روزمرہ اشیاءکی قیمتوں کے جائزہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں کے پیچھے سوچ کا محور غریب اور پسماندہ طبقے کی فلاح و بہبود ہے، ماضی کے حکمرانوں نے ذاتی مفاد اور اشرافیہ کیلئے پالیسیاں بنائیں اور غریب طبقات کو ہمیشہ نظر انداز کیا، حکومت کی سبسڈی سے تو سب لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور اشرافیہ بھی مستفید ہوتا ہے لیکن اب ایک ایسا لائحہ عمل بنا رہے کہ سبسڈی سے صرف غریب مستفید ہو سکے ، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بڑے چیلنجز پر خاصی حد تک قابو پالیا ہے اب اس کا محور ماضی کے نظر انداز طبقات کی فلاح و بہبود ہے، وزیراعظم باقاعدگی سے مہنگائی کا جائزہ لینے کیلئے صوبائی حکام سے بریفنگ لیتے ہیں، سندھ میں صوبائی حکومت کی طرف سے گندم جاری نہ کرنے کی وجہ سے قیمتیں سب سے زیادہ ہیں، وزیر اعظم نے ملک بھر میں اشیائے ضروریہ خصوصا غریب عوام کے استعمال کی اشیاءآٹا، چاول چینی اور دالوں سمیت 17قسم کی اشیاءکی قیمتوں کو یکساں رکھنے کے لئے میکانزم بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد چینی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت پر دباو¿ ڈالنے کیلئے کیا گیا ،حکومت مافیا کے گٹھ جوڑ کے دباو¿ میں کسی صورت نہیں آئے گی، گنے کی کرشنگ بروقت شروع کرانے کیلئے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے نیا قانون لا رہے ہیں جس کے تحت کرشنگ میں تاخیر کرنے والی شوگرمل کو 50 لاکھ روپے یومیہ جرمانہ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم کی زیر صدارت مہنگائی اور روزمرہ اشیاءکی قیمتوں کے جائزہ اجلاس کے بعد پی آئی ڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کی مدد سے کوویڈ۔19 کی صورتحال کے باوجود بڑے چیلنجز پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے، اب حکومت کی توجہ غریب عوام کی فلاح و بہبود پر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت مہنگائی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کے جائزہ اجلاس کو 17 قسم کی روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاءضروریہ کی قیمتوں کا صوبائی جائزہ پیش کیا گیا۔ آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں 20 کلوآٹے کے تھیلے کی قیمت 900 سے1150 روپے ، پنجاب میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 860 روپے اور سندھ میں خاص کر کراچی میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1400سے 1600روپے ہے جس کی وجہ صوبائی حکومت کی طرف سے گندم جاری نہ کرنا ہےاور یہی وجہ ہے کہ وہاں قیمتیں سب سے زیادہ ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم نے تمام صوبوں میں آٹے کی یکساں قیمت کے حوالے سے لائحہ عمل بنا نے کی ہدایت کی ہے، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور صوبائی وزیر علیم خان اور متعلقہ فوڈ سیکرٹریز لائحہ عمل بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کو ہر صورت کم کریں گے، انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔وزیر اعظم نے قیمتیں مزید کم کرنے کے لئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ چینی کی قیمتوں کے حوالے سے بھی وزیر اعظم کو قیمتوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ شبلی فراز نے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد چینی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت پر دباو¿ ڈالنے کیلئے کیا گیا لیکن حکومت مافیا کے گٹھ جوڑ کے دباو¿ میں کسی صورت نہیں آئے گی، ماضی کے حکمرانوں کی اپنی شوگر ملیں تھیں اس لئے وہ ذاتی مفاد میں پالیسیاں بناتے تھے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا۔ کورونا وباء کے مشکل وقت کے دوران بھی روزمرہ اشیاء کی فراہمی کم نہیں ہونے دی تا کہ مافیا اس کو جواز نہ بنائے چینی کی قیمتیں کم کرنے کیلئے سرکاری اور نجی شعبے میں چینی درآمد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنے کی کرشنگ بروقت شروع کرانے کیلئے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے نیا قانون لا رہے ہیں نئے قانون کے تحت کرشنگ میں تاخیر کرنے والی شوگرمل کو20 ہزار ایک بار نہیں بلکہ 50 لاکھ روپے یومیہ جرمانہ ہو گا ۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ چینی ذخیرہ کرنے کی کوشش کرنے والوں پر بھی حکومت کی کڑی نگاہ ہے، سندھ حکومت ابھی بھی بعض شخصیات کے مفاد میں پالیسیاں بنا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سبسڈی سے تو سب لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور اشرافیہ بھی مستفید ہوتا ہے لیکن اب ایک ایسا لائھہ عمل بنا رہے کہ صرف غریب مستفید ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ڈیٹا کے تحت با ہدف سبسڈی دی جائے گی ، عوام کو سستا آٹا اور چینی فراہم کرنے کیلئے حکومت ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔








