وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے نیدرلینڈز اور سویڈن کے انسانی حقوق کے سفیروں کی مشترکہ ملاقات

اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے نیدرلینڈز کے سفیر برائے انسانی حقوق وم گیرٹس اور سویڈن کی سفیر برائے انسانی حقوق ایرینا شوگلن نیونی نے اپنے اپنے وفود کے ہمراہ مشترکہ ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری وزارت انسانی حقوق عبدالخالق شیخ بھی موجود تھے۔ منگل کو وزارت انسانی حقوق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں پاکستان میں انسانی حقوق …

اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے نیدرلینڈز کے سفیر برائے انسانی حقوق وم گیرٹس اور سویڈن کی سفیر برائے انسانی حقوق ایرینا شوگلن نیونی نے اپنے اپنے وفود کے ہمراہ مشترکہ ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری وزارت انسانی حقوق عبدالخالق شیخ بھی موجود تھے۔ منگل کو وزارت انسانی حقوق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں پاکستان میں انسانی حقوق کے جاری اقدامات، قانون سازی میں پیش رفت اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے نیدرلینڈز اور سویڈن کی مسلسل شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے ادارہ جاتی کامیابیوں، پالیسی اقدامات اور عوامی تحفظ سے متعلق اصلاحات پر روشنی ڈالی جو شہریوں بالخصوص کمزور طبقات کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ آئین پاکستان تمام شہریوں کو بلا امتیاز مساوی حقوق اور مساوی سلوک کی ضمانت دیتا ہے، بشمول جنس کی بنیاد پر عدم امتیاز اور مختلف مذاہب و نسلی گروہوں کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین، بچوں، بزرگ شہریوں، خواجہ سراء افراد اور معذور افراد کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں۔ حال ہی میں منظور ہونے والا آئی سی ٹی گھریلو تشدد کی روک تھام و تحفظ ایکٹ 2026 خواتین اور بچوں کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بناتا ہے جبکہ وزارت انسانی حقوق کی قومی حکمت عملی برائے صنفی بنیاد پر تشدد کے تدارک میں مردوں کی شمولیت جامع اقدامات کی عکاس ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر)، قومی کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو) اور قومی کمیشن برائے حقوق اطفال (این سی آر سی) مکمل طور پر فعال ہیں اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں جو پاکستان کے تکثیری معاشرے، مساوات اور متنوع برادریوں کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ این سی ایچ آر کو حال ہی میں جی اے این ایچ آر آئی کی جانب سے اس کی خودمختاری اور شفافیت کے اعتراف میں اے سٹیٹس دیا گیا ہے۔ مزید برآں اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور جامع طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے پہلے قومی کمیشن برائے اقلیتیں کے قیام کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

وفود نے پاکستانی خواتین اور سول سوسائٹی کے کردار کو سراہا جو انسانی حقوق کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بچوں کی شادی سے متعلق قوانین میں اصلاحات خصوصاً آئی سی ٹی چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کا خیرمقدم کیا جو کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وفاقی وزیر نے خواتین کی افرادی قوت اور عوامی زندگی میں شرکت بڑھانے کے لیے جاری کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے خواتین کے بااختیار بنانے کو حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔وفود نے پاکستان کے قانونی اصلاحاتی اقدامات کو بھی سراہا جن میں تعزیرات پاکستان میں ترامیم کے ذریعے سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی اور تشدد اور حراستی اموات (روک تھام و سزا) ایکٹ 2022 شامل ہیں جو تشدد کو قابل سزا جرم قرار دیتا ہے اور عدالتی احتساب کو مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لیے قومی کمیشن کے قیام اور انسانی حقوق کے اداروں کی خودمختاری و موثر کارکردگی کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نفرت انگیزی، اشتعال انگیز مواد اور پلیٹ فارمز کے غلط استعمال سے شہریوں کے تحفظ اور اظہار رائے کی آزادی کے مابین توازن قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے

اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ قانونی تحفظات منصفانہ اور شفاف انداز میں نافذ ہوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران توہین مذہب سے متعلق مقدمات میں کمی آئی ہے جو قانونی اور انسانی حقوق کے معیار کے فروغ کی عکاس ہے۔ملاقات کے اختتام پر فریقین نے مسلسل مکالمے، تعاون کے فروغ اور پالیسیوں کے بروقت نفاذ کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا تاکہ بالخصوص خواتین، بچوں، اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق کا موثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ایک محفوظ، کھلے اور منصفانہ معاشرے کے قیام کو فروغ دیا جا سکے۔