اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) وزارت انسانی حقوق موجودہ انسانی حقوق کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت انسانی حقوق موجودہ قوانین سے متعلق مختلف آگاہی مہموں کا بھی آغاز کر رہی ہے جس میں خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق قوانین بھی شامل …
وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی ”اے پی پی“ سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) وزارت انسانی حقوق موجودہ انسانی حقوق کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہے۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت انسانی حقوق موجودہ قوانین سے متعلق مختلف آگاہی مہموں کا بھی آغاز کر رہی ہے جس میں خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق قوانین بھی شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے خواجہ سراﺅں کے حقوق سے متعلق بل، معذوری کے شکار افراد کے لئے قانون، انسداد جسمانی تشدد/انسداد تشدد بل سمیت وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف کے تعاون سے بچوں سے مشقت اور بچوں کی معذوری کے حوالے سے ایک سروے بھی کرا رہی ہے۔ انہوں نے بچوں کی پیدائش اور شادیوں کے حوالے سے ملک گیر جامع ڈیٹا بیس کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ڈیٹا بیس نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزارت انسانی حقوق قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اینٹی ٹارچر بل پیش کرنے جا رہی ہے اور جبری گمشدگیوں کے مسئلہ کو بھی اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ اسے معاشرے کے کمزور طبقات کے حوالے سے اور پہلے سے موجود قوانین سے متعلق حساس بنانے کی ضرورت ہے۔








