وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا ”بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں پبلک ٹاک“ سے خطاب

اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جائے اور ہمیں اب علامتی بیان بازی کی بجائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سارے کشمیریوں کی جانیں گئی ہیں اور ان کی کئی نسلیں بھی ختم ہوگئی …

اسلام آباد ۔ 10 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جائے اور ہمیں اب علامتی بیان بازی کی بجائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سارے کشمیریوں کی جانیں گئی ہیں اور ان کی کئی نسلیں بھی ختم ہوگئی ہیں۔ انہوں نے یہ بات ”بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکے بارے میں پبلک ٹاک“ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس پبلک ٹاک کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے کیا تھا۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ ہمیں اب مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیریوں کو جو استصواب رائے اور حق خودارادیت دیا تھا اس کے حصول کی جدوجہد میں کشمیریوں کی بڑی جانیں اور زندگیاں گئی ہیں اور ان کی کئی نسلیں بھی تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے حال ہی میں شائع شدہ رپورٹ میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے واضح طور پر بتایا گیا ہے جس سے کشمیر کے مسئلہ نے دوبارہ عالمی سطح پر نمایاں توجہ حاصل کر لی ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے تنازعہ سے کشمیری خواتین بری طرح متاثر ہوئی ہیں اس لئے ہمیں عالمی برادری کو اس مسئلہ میں شامل کر لینا چاہئے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ قبل ازیں وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسلا م آباد میں خاندان کے تحفظ اور بحالی مرکز کا دورہ کیا اور وہاں منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے منائے جانے کا مقصد عوام، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ بارے شعور آگاہی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے تشدد کا شکار افراد کےلئے اسلام آباد میں بحالی مرکز میں کمپیوٹر لیب کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے تشدد سے متاثرہ افراد اور خواتین میں تحائف بھی تقسیم کئے۔ تقریب میں یو این وویمن، یوا ین ایچ سی آر، وویمن ایڈٹرسٹ، والنٹیئرفاﺅنڈیشن، کیئرنگ کمیٹی، وزارت انسانی حقوق کے اعلیٰ افسران، وکلائ، بچوں اور بحالی مرکز کے عملہ اور دیگر افراد نے شرکت کی۔

مزید خبریں