وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب کا وفاقی وزیر فواد حسین چوہدری، معاونین خصوصی ندیم بابر اور شہزاد قاسم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 12 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دی ہے،قابل تجدید توانائی پالیسی کے تحت 2025ءتک 20 فیصد اور 2030ءتک 30 فیصد بجلی متبادل ذرائع سے پیدا کی جا سکے گی،یہ پالیسی نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں مدد فراہم کرے گی، سابقہ …

اسلام آباد ۔ 12 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دی ہے،قابل تجدید توانائی پالیسی کے تحت 2025ءتک 20 فیصد اور 2030ءتک 30 فیصد بجلی متبادل ذرائع سے پیدا کی جا سکے گی،یہ پالیسی نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں مدد فراہم کرے گی، سابقہ ادوار میں مہنگے معاہدے کرنے سے بجلی مہنگی ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کووفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد قاسم کے ہمراہ پی آئی ڈی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمر ایوب نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قابل تجدید توانائی پالیسی کی منظوری دی ہے جس سے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی پالیسی سے 2025ءتک 20 فیصد بجلی متبادل ذرائع سے پیدا کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ 2030ءتک 30 فیصد بجلی متبادل ذرائع سے پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے ہماری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی بھرپور معاونت کرے گی جس سے نہ صرف ہوا، جیوتھرمل، پن بجلی پیدا کی جا سکے گی بلکہ اس سے دیگر متبادل ذرائع سے بھی بجلی پیدا کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ عمر ایوب نے کہا کہ متبادل ذرائع سے بجلی پیدا ہونے سے ہماری صنعت اور گھریلو صارفین کا فائدہ ہو گا اور انہیں سستی بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں مہنگے معاہدے کرنے سے بجلی مہنگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت 60 فیصد بجلی ملک کے اندر موجود ذرائع سے پیدا کی جائے گی اور یہ عمران خان کا وژن ہے کہ وہ نہ صرف انرجی کرائسز پر قابو پانا چاہتے ہیں بلکہ سستی بجلی بھی پیدا کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھرکول سے بھی 8 سے 10 فیصد بجلی پیدا کی جا سکے گی اور 2030ءتک ہم اپنے ملک میں متبادل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کا 75 فیصد ملک میں موجود ذرائع سے پیدا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 سے پہلے مختلف غیر ملکی سرمایہ کار بھی اس شعبہ میں دلچسپی ظاہر کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید انرجی سے ہم 2025ءتک 8 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر سکیں گے جو پیداوار کا 20 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی سال ہم نے ایک ہزار میگاواٹ ونڈ منصوبوں کا افتتاح کیا جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے ہم کھلی بولی کے ذریعے سرمایہ کاروں کو مواقع دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کاروں کو مواقع بھی میسر آئیں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ اس پالیسی کے چند نکات نہایت اہم ہیں جن میں کھلی بولی کا ہونا، اس میں جو بجلی شامل کی جائے گی یا اس پر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے گی ان میں آزاد کشمیر اور تمام صوبوں کی مشاورت سے معاملات طے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ٹینڈرنگ کے وقت ہم ڈالروں میں معاہدے کر لیتے تھے جس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہو جاتی ہے لیکن اگر اب ہم ڈالر کی قیمت میں کمی اور اضافہ کا پہلے تعین کریں گے تاکہ ڈالر کا ریٹ اوپر نیچے ہونے سے بجلی کی قیمت پر زیادہ اثر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے ٹیکنالوجی مقامی سطح پر منتقل ہو گی اور یہاں پر متبادل ذرائع سے پیدا ہونے والے آلات کی بھی مقامی سطح پر پروڈکشن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی تین چینی اور ایک یورپین کمپنی پاکستان میں سولر اور ونڈ انرجی میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کام شروع کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کار یہاں پر توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اسے تحفظ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں کسٹم فری ڈیوٹی بھی دی گئی ہے تاکہ سستی بجلی پیدا ہو سکے۔ ندیم بابر نے کہا کہ ہائیڈل کے حوالہ سے ہم ایک الگ پالیسی لے کر آ رہے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ شمسی اور ہوا سے بجلی کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے، موجودہ حکومت باہر سے مہنگی ٹیکنالوجی درآمد کرنے کی بجائے ملکی سطح پر ٹیکنالوجی تیار رہی ہے۔ اگلے 10 سالوں میں بجلی کی قیمتیں کم سطح پر لائیں گے۔ موجودہ متبادل اور قابل تجدید توانائی پالیسی تاریخی ہے۔سعودی عرب اور یو اے ای سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت بجلی سستی کرنے اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دس سے پندرہ سال تک بجلی کی پیداوار اور تقسیم کار کا سٹرکچر تبدیل ہو جائے گا، سولر اور ونڈ انرجی کا حصول ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2025ءتک 20 فیصد بجلی قابل تجدید اور متبادل زرائع سے حاصل کی جائیگی۔ آئندہ دس سے پندرہ سالوں میں بجلی کی قیمتوں کو نیچے لا سکیں گے۔ انشاءاللہ وہ وقت آئیگا جب ہم بجلی دیگر ملکوں کو بیچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتی پالیسی کا مقصد بجلی سستی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنا ۔متبادل اور قابل تجدید توانائی پالیسی تاریخی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر جگہ مافیا ہے ،ہماری تیار کردہ چیز مہنگی ،باہر سے آنے والی سستی ملتی ہیں۔کراچی کے شہری لوڈ شیڈنگ کیساتھ بجلی کے بلوں سے بھی پریشان ہے۔ حکومت کی پالیسی برقرار رہی تو بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوگی۔موجودہ حکومت باہر سے مہنگی ٹیکنالوجی درآمد کرنے کی بجائے ملکی سطح پر ٹیکنالوجی تیار رہی ہے۔ ماضی میں پاکستان میں نئی ٹیکنالجوجی کی تیاری کی راہ میں بہت رکاوٹیں تھیں۔کورونا آیا تو ماسک، سینی ٹائزرز درآمد کر رہے تھے، آج ہم اس پوزیشن پر آگئے ہیں کہ پاکستان پی پی ایز برآمد کرنے والے ممالک کا شامل ہو گیا ہے۔ پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ اگرچہ بعض لوگوں کی خواہش ہے کہ تعلقات میں بغاڑ ہو لیکن انکی خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی

مزید خبریں