وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کا ملکی معیشت کی 3.5 فیصد شرح نمو پر اطمینان کا اظہار، سیاسی یکجہتی کے ذریعے غربت کے خاتمے اور کاروباری آسانیاں پیدا کرنے پر زور

وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے ملکی معیشت کی موجودہ 3.5 فیصد شرح نمو کو ایک مثبت اور خوش آئند پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل ترین حالات میں معاشی استحکام اور دفاعی محاذوں بشمول ماضی

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے ملکی معیشت کی موجودہ 3.5 فیصد شرح نمو کو ایک مثبت اور خوش آئند پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل ترین حالات میں معاشی استحکام اور دفاعی محاذوں بشمول ماضی میں بھارتی جارحیت کے منہ توڑ جواب اور ایران – امریکہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے شاندار سفارتی و دفاعی کردار پر پوری قوم اور اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ جب بھی پاکستان نے بطور قوم مل کر کام کیا، دنیا نے ہمارے کردار کو تسلیم کیا اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی اسی قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے ملکی معیشت کی طویل المدتی ترقی کے لئے اراکینِ پارلیمنٹ کے سامنے حقائق پر مبنی ایک جامع تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین مخلص ہیں لیکن سیاسی کھینچا تانی کی وجہ سے ہم معاشی تسلسل برقرار نہ رکھ سکے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1972 میں جب وہ چین گئے تو وہاں کوئی پرائیویٹ گاڑی یا انٹرنیشنل ایئرلائن نہیں تھی لیکن آج چین نے 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کی بجائے میثاقِ معیشت پر عمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو معاشی ترقی کا انجن بن سکتے ہیں بشرطیکہ ہم انہیں روایتی طریقوں کی بجائے جدید ٹیکنالوجی، تعلیم اور ہنر مندانہ تربیت فراہم کریں۔ا نہوں نے اعتراف کیا کہ اس وقت بورڈ آف انویسٹمنٹ میں وہ ان قوانین کو تبدیل کر رہے ہیں جنہوں نے ملکی ترقی کو روک رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک نیا کاروبار شروع کرنے کیلئے 30 سے 40 محکموں سے این او سی اور پرمیشنز لینی پڑتی ہیں جو سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، وہ اب ان ریگولیٹری پابندیوں کو ختم کر کے کاروباری ماحول کو آسان بنا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ صرف بیرونی ترسیلاتِ زر پر انحصار کر کے عزتِ نفس قائم نہیں رکھی جا سکتی، ملک کی اصل ترقی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور کاشتکاروں سے جڑی ہوئی ہے، جب تک چھوٹے طبقے کو آگے بڑھنے کے مواقع اور روزگار نہیں ملے گا، غربت کی شرح میں جو کہ 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہو چکی ہے، کمی لانا ممکن نہیں ہوگا۔

مزید خبریں