وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں، بھارت، ایران، افریقہ اور عمان سے ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ ہے، ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے اداروں کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، متاثرہ علاقوں میں ٹڈی دل کو تلف کرنے کے لئے آپریشن جاری ہے، بین الاقوامی اداروں سے بھی رابطے میں …

اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں، بھارت، ایران، افریقہ اور عمان سے ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ ہے، ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے اداروں کی کاوشیں قابل تعریف ہیں، متاثرہ علاقوں میں ٹڈی دل کو تلف کرنے کے لئے آپریشن جاری ہے، بین الاقوامی اداروں سے بھی رابطے میں ہیں، ٹڈی دل کو تلف کرنے کے لئے اپنی استعدادکار بڑھا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاک آرمی کے 5 ہیلی کاپٹر استعمال ہو رہے ہیں، انسداد ٹڈی دل کے لئے سروے ضروری ہے،انسداد ٹڈی دل کے لئے خاص قسم کے جہازاستعمال ہوتے ہیں اور پائلٹوں کی خاص تربیت بھی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کے نیشنل لوکسٹ کنٹرول (این ایل سی سی) کی وجہ سے انسداد ٹڈی دل کے لئے مشترکہ کاوش کی جا رہی ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل نے ایک نئی راہداری سے افغانستان سے ڈی آئی خان اور وزیرستان میں داخل ہورہے ہیں، سید فخر امام نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے 11 جہازوں کے آرڈر دے دیئے ہیں۔مائکرون سپیرز بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔20 مائکرون سپیرز برطانیہ اور ایف اے او کی طرف سے دیئے گئے۔سید فخر امام کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت 100 حشریات دان بھرتی کر رہی ہے، اس سلسلے میں ہم وزارت خارجہ کے شکر گزار ہیں، اس کے بعد این ایل سی سی کا وفاقی وزیر سید فخر امام اور انجینئر ان چیف لیفٹننٹ جنرل معظم اعجاز کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔جس میں ڈاکٹر مبارک نے ایف اے او کی طرف سے ٹڈی دل کی تازہ ترین صورتحال بیان کی۔انکا کہنا تھا کہ افریقہ ،یمن اور سعودی عرب میں ٹڈی دل کی افزائش شروع ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ جولائی میں بارشوں کی وجہ سے تھر پارکر میں بھی ٹڈی دل کی افزائش ہو سکتی ہے اور خیبر پختونخوا میں موجود ہوپر بینڈ کو کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے۔وفاقی وزیر سید فخر امام نے ٹڈی دل کو تلف کرنے کے لئے سپارکو کو بھی مدد کرنے کو کہا۔ فوڈ سیکورٹی کمشنر ڈاکٹر وسیم نے بتایا کہ 358661 اسکوائر کلومیٹر رقبہ پر سروے اور 8936 اسکوائر کلومیٹر رقبہ پر اب تک کنٹرول آپریشن کیا جا چکا ہے۔اس پر وفاقی وزیر نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً پچھلے 4 مہینوں میں ملک کے آدھے رقبہ پر سروے کیا جا چکا ہے۔مگر سروے کومزید موثر بنایا جائے۔سیکرٹری وزارت خارجہ نے بتایا کہ انکی وزارت ایف اے او اور افریقی ممالک سے رابطے میں ہے تا کہ ٹڈی دل کا خاتمہ کیا جا سکے۔تمام صوبوں نے ٹڈی دل کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔انجینیر ان چیف لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز نے تمام صوبوں کو یقین دہانی کروائی کہ این ایل سی سی، این ڈی ایم اے اور پاک فوج ہر سطح پر انسداد ٹڈی دل کے لئے مدد کریں گے۔

مزید خبریں