اسلام آباد ۔ 2 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ کھاد پر سبسڈی کے ذریعہ کاشتکاروں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ ملک میں زراعت کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہے، زرعی پیکیج کے تحت 37 ارب کی سبسڈی کھاد پر دی جائے گی، وفاق اور صوبے متفقہ طور ہر سبسڈی دینے کا طریقہ کار بنائیں گے۔ ان …
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام کا زراعت کے صوبائی سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ کھاد پر سبسڈی کے ذریعہ کاشتکاروں کو بااختیار بنایا جائے گا۔ ملک میں زراعت کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہے، زرعی پیکیج کے تحت 37 ارب کی سبسڈی کھاد پر دی جائے گی، وفاق اور صوبے متفقہ طور ہر سبسڈی دینے کا طریقہ کار بنائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو زراعت کے صوبائی محکموں کے سیکریٹریز کے ساتھ زرعی مالی پیکیج سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں 8.2 ملین کاشتکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان زرعی شعبے کو جدید بنانا چاہتے ہیں، ہم یہ مالی پیکیج شفافیت کے ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں اس سلسلے میں شفافیت کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے بلوچستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں 15000 ایکڑ پر نامیاتی کاٹن لگائی گی جس سے 22 من فی ایکڑ پیداوارحاصل ہوئی۔ سید فخر امام نے کہا کہ مستقبل نامیاتی زراعت کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ترجیح طویل مدتی تحقیق اور 5 بڑی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہئے۔ اکنامک کنسلٹنٹ ڈاکٹر تالپور نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ پیکیج کے تحت کسانوں کوکھاد پر زرتلافی دیا جائے گا، زرعی قرضوں پرشرح سود میں کمی لائی جائے گی، کاٹن سیڈز اور سفید مکھی کے خاتمے کیلئے کیڑے مار ادویات کی خریداری اورمقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹروں پرسیلز ٹیکس میں سبسڈی اس پیکیج کا حصہ ہے۔ یہ زرعی پیکیج 19 مئی کو کابینہ نے منظور کیا۔زرعی پیکیج میں کسانوں کو کھادوں کی خریداری پر37 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ زرعی پیکیج کے تحت زرعی قرضوں پر مارک اپ میں کمی کیلئے 8.8 ارب روپے اورکاٹن سیڈز وسفید مکھی کے خاتمے کیلئے کیڑے مارادویات پر سبسڈی کے ضمن میں بالترتیب 6 ارب اور 2.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پیکیج میں مقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی مد میں 2.5 ارب روپے کا زر تلافی شامل ہے۔ انہوں نے نفاذ کے طریقہ کار کے لئے صوبائی سیکرٹریوں سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پیکیج سے کسانوں کو حقیقی طور پر فائدہ ہو۔








