وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرکا سینیٹ میں ضمنی مالیاتی (ترمیمی) بل پر بحث سمیٹتے ہوئے خطاب

اسلام آباد ۔ 3 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان سٹریٹجک شراکت دار ہیں، سی پیک منصوبوں کا تعین پاکستان اور چین نے باہمی اتفاق سے کرنا ہے، سی پیک میں نئے سٹریٹجک شراکت دار شامل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، انفرادی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جا سکتی ہے، سابق حکومت سی پیک کو گیم چینجر …

اسلام آباد ۔ 3 اکتوبر (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان سٹریٹجک شراکت دار ہیں، سی پیک منصوبوں کا تعین پاکستان اور چین نے باہمی اتفاق سے کرنا ہے، سی پیک میں نئے سٹریٹجک شراکت دار شامل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، انفرادی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جا سکتی ہے، سابق حکومت سی پیک کو گیم چینجر قرار دیتی رہی لیکن پارلیمنٹ کو اس حوالے سے ہونے والے معاہدوں سے بے خبر رکھا، فاٹا انضمام کے بعد بھی فاٹا اور پاٹا کے لئے مراعات پانچ سال جاری رہیں گی، این ایف سی پر پیشرفت کے لئے وزرائے اعلیٰ اپنے نمائندے نامزد کریں۔ بدھ کو سینیٹ میں ضمنی مالیاتی (ترمیمی) بل پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں پر پاکستان اور چین نے پیشرفت کرنی ہے، سٹریٹجک شراکت داری دونوں ممالک کی ہے، سعودی عرب کے ساتھ اصولی بات ہوئی تھی، ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور سی پیک میں مزید سٹریٹجک شراکت دار شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فائلرز اور نان فائلرز کے حوالے سے سینیٹ سے بھی تجاویز موصول ہوئیں۔