وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلا آباد ۔ 08 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے 28 فروری کو ہونے والے اجلاس میں جس میں پی پی پی نہیں آئی تھی تمام جماعتوں نے ایک آئینی اور آرمی ایکٹ کی قانونی ترمیم سمیت ایک ڈرافٹ پر اتفاق رائے کر لیا تھا لیکن پی پی پی کی 4مارچ کی اے پی سی کے …

اسلا آباد ۔ 08 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے 28 فروری کو ہونے والے اجلاس میں جس میں پی پی پی نہیں آئی تھی تمام جماعتوں نے ایک آئینی اور آرمی ایکٹ کی قانونی ترمیم سمیت ایک ڈرافٹ پر اتفاق رائے کر لیا تھا لیکن پی پی پی کی 4مارچ کی اے پی سی کے اعلان کے باعث تھوڑی تاخیر ہو گئی کیونکہ ہم اس عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دئیے گئے 9نکات ہم نے تمام سیاسی جماعتوں بشمول اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتوں کو بھجوا دئیے ہیں جن کو وہ سٹڈی کر رہے ہیں جن پر ان تمام جماعتوں سے آج جمعرات کو بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کیے گئے 9نکات میں سے پانچ چھے تو ایسے ہیں جو قابل عمل ہیں لیکن حتمی فیصلہ تو سب نے مل کر ہی کرنا ہے۔ حکومت کی طرف سے میں اور وزیر قانون زاہد حامد یہ بات میٹنگ میں کہہ چکے ہیں کہ اس کا جو بھی فیصلہ ہو گا اتفاق رائے سے ہوگا تاکہ پورے ملک میں اتحادواتفاق کا ایک واضح پیغام جائے۔

Leave a Reply