اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے)کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نومنتخب چیئرمین ڈاکٹر طاہر اعظم کی قیادت میں فنانس ڈویژن میں ملاقات کی ۔اجلاس میں صنعت کی برآمدی کارکردگی، حکومت کے اصلاحاتی اقدامات اور پاکستان کو عالمی فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کے لیے مستقبل کے روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد …
وفاقی وزیر خزانہ سے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات،فارم ایکس پاکستان کے قیام پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے)کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نومنتخب چیئرمین ڈاکٹر طاہر اعظم کی قیادت میں فنانس ڈویژن میں ملاقات کی ۔اجلاس میں صنعت کی برآمدی کارکردگی، حکومت کے اصلاحاتی اقدامات اور پاکستان کو عالمی فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی بنانے کے لیے مستقبل کے روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے وزیر خزانہ سے فارم ایکس (PharmEx) پاکستان کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا جو کہ آئندہ تین سالوں میں دواسازی کی برآمدات میں 3 ارب امریکی ڈالر اور اس کے بعد کے پانچ سالوں میں 10 ارب امریکی ڈالر کے حصول کے لیے منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے ایک وقف فارماسیوٹیکل ایکسپورٹ پلیٹ فارم ہے۔
پی پی ایم اے کے وفد نے بتایا کہ ادویہ سازی کی برآمدات میں سال بہ سال ریکارڈ 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ معاشی مشکلات کے باوجود مقامی صنعت کی لچک، صلاحیت اور جدت کو ظاہر کرتا ہے۔وفد نے حکومت کے ریگولیٹری گیلوٹین اقدام پر بھی روشنی ڈالی جس نے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔پی پی ایم اے نے پرائیویٹ سیکٹر کی سربراہی میں ٹڈاپ اور ڈریپ کے ساتھ مل کر صحت، تجارت اور خزانہ کی وزارتوں کے مشترکہ نمائندہ ادارے کے طور پر فارم ایکس (PharmEx) پاکستان کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔
مجوزہ ادارہ تجارتی سہولت، مارکیٹ میں تنوع، عالمی سرٹیفیکیشن سپورٹ اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے دواسازی کی برآمدات کو فروغ دینے اور بڑھانے کے لیے ایک ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے صنعت کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی ادویہ سازی کی شرح نمو اوسطاً 5 فیصد کے قریب ہے جبکہ پاکستان کی 18 فیصد ہے جس میں غیر معمولی برآمدات کی شرح نمو 34 فیصد ہے۔ اس طرح عالمی سطح پر مسابقتی ماحول میں پاکستان کی کارکردگی غیر معمولی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے میکرو اکنامک حالات مستحکم ہوتے جا رہے ہیں، صنعت کے امکانات مزید بہتر ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے فارماسیوٹیکل سیکٹر کے توسیعی منصوبوں کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور برآمدات میں اضافے اور مسابقت کو بہتر بنانے میں پی پی ایم اے کی فعال شمولیت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی وسیع تر اقتصادی حکمت عملی برآمدات کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے پر مرکوز ہے ۔ سینیٹر اورنگزیب نے یقین دلایا کہ وزارت خزانہ دیگر متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر مالیاتی اور ریگولیٹری چیلنجوں سے نمٹنے اور پائیدار برآمدی ترقی کو ممکن بنانے کے لیے اس شعبے کو سہولت فراہم کرتی رہے گی۔








