وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداران کے اعلیٰ اختیاراتی وفد کی ملاقات میڈیا انڈسٹری، قومی سلامتی کی حفاظت سے متعلق میڈیا کے کردار، قومی اہمیت کے امور اور ایگزیکٹ کیس پر تبادلہ خیال کیا گیا اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے …
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداران کے اعلیٰ اختیاراتی وفد کی ملاقات

مزید خبریں
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر عہدیداران کے اعلیٰ اختیاراتی وفد کی ملاقات
میڈیا انڈسٹری، قومی سلامتی کی حفاظت سے متعلق میڈیا کے کردار، قومی اہمیت کے امور اور ایگزیکٹ کیس پر تبادلہ خیال کیا گیا
اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے سینئر عہدیداران کے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی سربراہی پی بی اے کے چیئرمین میاں عامر محمود کر رہے تھے جبکہ سلطان لاکھانی، میر ابراہیم، شکیل مسعود حسین اور طاہر خان بھی وفد میں شامل تھے۔ ملاقات میں میڈیا انڈسٹری، قومی سلامتی کی حفاظت سے متعلق میڈیا کے کردار، قومی اہمیت کے امور اور ایگزیکٹ کیس بھی زیر بحث لایا گیا۔ وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور اپنی طاقت کو قومی مفادات، ہماری معاشرتی و مذہبی اقدار کے تحفظ کیلئے استعمال کرنا چاہئے اور اسے خود کو انتہاءپسندی، جنونیت اور آزادی اظہار رائے کے نام پر پیدا کی گئی تباہی کے خلاف فصیل ثابت کرنا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے دہشت گرد بیانیہ کو مسترد کرنے اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے میں میڈیا کے اہم کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی تمام نمائندہ تنظیموں بشمول اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی بی اے کے ساتھ (آج) ملاقات کر رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان کے قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ پر متفقہ پالیسی تیار کرنا ہے۔ اس موقع پر قومی اہمیت کے مختلف امور بشمول بیرون ملک پاکستان کے تشخص کو بری طرح متاثر کرنے والے مختلف کیسز میں پیشرفت بھی زیر بحث لائی گئی۔ وفد نے ایگزیکٹ سکینڈل میں پیشرفت اور بعض میڈیا چینلز کی مشکوک، بغیر ٹیکس اور بیرون ملک سے غیر تصدیق شدہ رقوم کے ذریعے فنڈنگ پر تحفظات کا اظہار کیا۔








