پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے متحرک اور فعال ہیں، دہشت گردوں کی طرف سے آسان اہداف کو نشانہ بنانا بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے، دہشتگردی کے واقعات پاکستان اور اس کے عوام کی روح کو کسی صورت کمزور نہیں کر سکتے، امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کے اغواءکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کلرسیداں کے عوام کے ووٹ کا قرض …
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی کلر سیداں میں صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے متحرک اور فعال ہیں، دہشت گردوں کی طرف سے آسان اہداف کو نشانہ بنانا بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے، دہشتگردی کے واقعات پاکستان اور اس کے عوام کی روح کو کسی صورت کمزور نہیں کر سکتے، امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کے اغواءکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، کلرسیداں کے عوام کے ووٹ کا قرض خدمت کے ذریعے ادا کروں گا
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی کلر سیداں میں صحافیوں سے گفتگو
کلر سیداں ۔ 25 جون(اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ غیر ملکی جاسوسوں کا پکڑے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے متحرک اور فعال ہیں، دہشت گردوں کی طرف سے آسان اہداف کو نشانہ بنایا جانا بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے، ایسے واقعات پاکستان اور اس کے عوام کی روح کو کسی صورت کمزور نہیں کر سکتے، دھرتی سے ان درندوں کا خاتمہ کر کے رہیں گے، کلرسیداں کے عوام کے ووٹ کا قرض خدمت کے ذریعے ادا کروں گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں ویلفیئر سٹی پراجیکٹ کے فضائی معائنہ اور کلر سیداں میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما بزرگ سیاسی شخصیت محمد ارشاد مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے کے اغواءکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن ان واقعات سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہونے چاہئیں، آج ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، سول اورمسلح افواج، قومی سلامتی کے ادارے انتہائی متحرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے بیٹے کی بازیابی کے معاملہ کو 24 گھنٹے کی بنیاد پر ترجیحی فوکس کررہے ہیں۔ انہوں نے ٹیکسلا سے پکڑے جانے والے غیر ملکی جاسوس کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ شخص سالہاسال سے یہاں تھا اور آج جب متحرک سکیورٹی اداروں کی بدولت انہیں پکڑ لیا جاتا ہے تو تنقید کیوں شروع کر دی جاتی ہے، ہمیں حالات واقعات کو قومی عزم کے ساتھ دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے ۔








