اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے حوالہ سے اپوزیشن اور حکومت کے مابین مشاورت جاری ہے جس کا مقصد دہشت گر دوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے فاسٹ ٹرائل کا نظام متعارف کرانا ہے، وزارت داخلہ نے کوئٹہ کمیشن کے حوالہ سے اپنا جواب اور موقف تیار کر لیا ہے، وزارت داخلہ سپریم …
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی کلر سیداں میں میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے حوالہ سے اپوزیشن اور حکومت کے مابین مشاورت جاری ہے جس کا مقصد دہشت گر دوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے فاسٹ ٹرائل کا نظام متعارف کرانا ہے، وزارت داخلہ نے کوئٹہ کمیشن کے حوالہ سے اپنا جواب اور موقف تیار کر لیا ہے، وزارت داخلہ سپریم کورٹ میں 17 یا 18 جنوری کو اپنا جواب دے گی، خبر لیکس کی کمیٹی سے میرا تعلق نہیں، کمیٹی حکومت پاکستان بناتی ہے جس کا نوٹیفیکیشن وزارت داخلہ کرتی ہے تاہم خود مختار کمیٹی آئندہ چند روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی، پیپلز پارٹی کے بہتانوں کی کوئی وقعت نہیں اور نہ ہی جواب دینا مناسب ہے، ان کے پاس سینٹ میں میری تقریر کا کوئی جواب نہیں تھا اسی لئے انہوں نے بھاگنے میں عافیت جانی، دہشت گرد اور کالعدم تنظیموں کے حوالہ سے علیحدہ قوانین بنانے ہوں گے، فقہی اختلافات اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں، ہم نے ساڑھے تین برس میں ساڑھے چار لاکھ کے قریب شناختی کارڈ بلاک اور 32400 پاسپورٹ منسوخ کئے، میڈیا کی جائز تنقید کا خندہ پیشانی سے جواب دیں گے لیکن میڈیا مخالفین کی زبان نہ بولے، اسلام آباد سے پروفیسر حیدر کے علاوہ کسی اور کے لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں، ہماری کوشش ہے کہ ہر کوئی جلد سے جلد بازیاب ہو، حکومت کی اس حوالہ سے پالیسی واضح ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں کلر سیداں میں نومنتخب بلدیاتی نمائندوں سے ملاقات کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔








