پشاور۔10 جنوری (اے پی پی )وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پانچ سال کے اندر ایم ایل ون بنائیں گے پشاور سے کراچی تک 1872 کلومیٹر میں تین ہزار پھاٹک ہےں یہ سارے بند کررہے ہیں اوور ہیڈ یا انڈرپاس کے ذریعے عوام کو راستہ دیں گے ، 1872 کلومیٹر میں پشاور سے کراچی تک کوئی کراسنگ قابل قبول نہیں ہوگا اورٹرین پشاور سے کراچی تک …
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا نوشہرہ پیر پیائی ڈرائی پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب
پشاور۔10 جنوری (اے پی پی )وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پانچ سال کے اندر ایم ایل ون بنائیں گے پشاور سے کراچی تک 1872 کلومیٹر میں تین ہزار پھاٹک ہےں یہ سارے بند کررہے ہیں اوور ہیڈ یا انڈرپاس کے ذریعے عوام کو راستہ دیں گے ، 1872 کلومیٹر میں پشاور سے کراچی تک کوئی کراسنگ قابل قبول نہیں ہوگا اورٹرین پشاور سے کراچی تک 8 گھنٹے میں پہنچے گی ۔وہ نوشہرہ پیر پیائی ڈرائی پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے قوم کو بتایا تھا کہ پرویز خٹک کے پاس تعویز ہے یہ اپوزیشن کے پاس جائےں گے اور انھیں ریڈی میڈ اپوزیشن ملے گی جو تیار بیٹھی ہوگی۔ عمران خان میں سیاسی چالاکیاں نہیں ہےں وہ جو بات کرتے ہیں، سیدھی بات کرتے ہیں۔ میں خود بھی احتساب آرڈیننس کا مخالف ہوںلیکن عمران خان کے رویے اور نظریے پر مجھے یقین ہے کہ چور، ڈاکو،لٹیرے جیل کے پیچھے ہوں گے ۔ شیخ رشید نے کہا کہ 2006 میں اضاخیل ڈرائی پورٹ کو ڈاکوﺅں اور چوروں نے لوٹ کر اس طرح چھوڑدیا تھا ، اب یہ منصوبہ ایک سال میں مکمل کیا گیا ہے جس دن گیس لائن کے پیسے ریلوے کو دیں گے ایک ہفتے کے اندرکنکشن لگادیا جائے گا یہ ڈرائی پورٹ 28 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے اور اس کو مزید 36ایکڑ بڑھنے کی گنجائش ہے اس میں بیک وقت تین ٹرینیں آسکتی ہیں اس منصوبے پر پچاس کروڑ روپے لاگت آئی ہے جس دن پشاور سے جلال آباد تک 145 کلومیٹر ٹریک ایم ایل ون میں پڑ گیا تو میں لکھ کر دیتا ہوں کہ اس ملک میں سمگلنگ ختم ہوجائے گی، انہوں نے کہا کہ ریلوے نے پچھلے سال دس ارب روپے کمایادنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو پیسنجر ٹرین میں بھی کمائی کر رہا ہے ورنہ دنیا میں مال گاڑی ٹرین کے ذریعے لوگ کمائی کرتے ہیں اور پیسنجر ٹرین میں نقصان کرتے ہیں ،،اللہ تعالی کو منظور ہوا تو عمران خان کی قیادت میں ریلوے ایم ایل ون بنے گا۔جس دن ایم ایل ون شروع ہوا ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گاایم ایل ون معاہدے میں یہ شامل ہے کہ 92 فیصد نوکریاں پاکستان کی ہوںگی پہلے ہمارے پاس منشی کھاتہ تھا رجسٹر پر سارا کچھ درج ہوتا تھا تمام جیوفنسنگ اور ریلوے کمپیوٹر ائزڈ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک سال کے اندر ڈرائی پورٹ بنایا ہے اور پانچ سال کے اندر ایم ایل ون بنائیں گے پشاور سے کراچی تک 1872 کلومیٹر میں تین ہزار پھاٹک ہےں یہ سارے بند کررہے ہیں اوور ہیڈ یا انڈرپاس کے ذریعے عوام کو راستہ دیں گے انہوں نے کہا کہ 1872 کلومیٹر میں پشاور سے کراچی تک کوئی کراسنگ قابل قبول نہیں ہوگا اورٹرین پشاور سے کراچی تک 8 گھنٹے میں پہنچے گی ۔









